پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت: لازوال قربانی کی تاریخ ساز داستان
پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کا 55واں یوم شہادت: لازوال قربانی کی تاریخ ساز داستان
اسلام آباد / کراچی: نشانِ حیدر پانے والے سب سے کم عمر قومی ہیرو پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کا 55واں یومِ شہادت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ راشد منہاس شہید کی بے مثال جرات، فرض شناسی اور دفاعِ وطن کے لیے دی جانے والی عظیم قربانی پاک فضائیہ اور پوری قوم کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گی۔
ابتدائی زندگی اور پاک فضائیہ میں شمولیت
17 فروری 1951 کو کراچی میں پیدا ہونے والے راشد منہاس نے کم عمری ہی سے فضائی دفاع کا راستہ چنا۔ انہوں نے 14 مارچ 1971 کو پاکستان ایئر فورس کے 51ویں جی ڈی پی (General Duty Pilot) کورس سے کمیشن حاصل کیا۔ بعد ازاں انہیں آپریشنل کنورژن کورس کے لیے پی اے ایف بیس مسرور (ماڑی پور) میں واقع نمبر 2 اسکواڈرن میں تعینات کیا گیا۔
20 اگست 1971: فضاؤں میں لکھی گئی غیرت و شجاعت کی داستان
20 اگست 1971 کو پائلٹ آفیسر راشد منہاس اپنی پہلی سولو تربیتی پرواز کے لیے ٹی-33 جیٹ ٹرینر لے کر مسرور ایئر بیس سے روانہ ہوئے:
طیارہ اغوا کی مذموم کوشش: دورانِ ٹیک آف، فلائٹ انسٹرکٹر مطیع الرحمان طیارے میں زبردستی سوار ہوا اور کنٹرول سنبھال کر طیارے کا رخ بھارت کی طرف موڑنے لگا۔
فضائی جدوجہد: بھارتی سرحد سے محض 40 میل دور راشد منہاس شہید نے طیارے کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
عظیم قربانی کا لمحہ: جب محسوس ہوا کہ طیارہ سرحد پار جانے سے نہیں روکا جا سکتا تو انہوں نے طیارے کا رخ زمین کی طرف موڑ دیا اور سرحد سے 32 میل پہلے طیارہ تباہ ہو گیا۔
دشمن کی سازش ناکام، ملکی وقار پر آنچ نہ آنے دی
پائلٹ آفیسر راشد منہاس نے محض 20 برس کی عمر میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ ان کے اس غیر معمولی کارنامے کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ملک کے سب سے اعلیٰ ترین فوجی اعزاز "نشانِ حیدر" سے نوازا، جس سے وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاک فضائیہ کے واحد اور کم عمر ترین افسر بنے