پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا مشترکہ دفاع کا پختہ عزم
راولپنڈی: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے چیفس آف ڈیفنس فورسز اور چیفس آف جنرل اسٹاف کا ایک اہم اجلاس جمعہ کو ریاض میں منعقد ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی عسکری قیادت نے شرکت کی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق عسکری سربراہان نے مملکتِ سعودی عرب کو درپیش سیکیورٹی خطرات اور مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس کے شرکاء نے مقدس شہر مکہ مکرمہ کے علاوہ شہری آبادی اور معاشی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ عسکری قائدین نے مملکت کے تحفظ اور عوام کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے سعودی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ تیاری اور بروقت چوکسی کو بھی سراہا۔
اجلاس کے دوران تینوں برادر ممالک کی مسلح افواج کے مابین باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے، انٹیلی جنس شیئرنگ کو مؤثر بنانے، فوجی ہم آہنگی اور مشترکہ جنگی صلاحیتوں کو یکجا کرنے پر تفصیلی مشاورت ہوئی تاکہ مشترکہ دفاع اور دشمن کے خلاف دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
اعلامیے کے مطابق شرکاء نے تینوں ممالک کے عوام اور افواج کے مابین قائم دیرینہ برادرانہ تعلقات اور باہمی اعتماد پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاض میں یہ عسکری بیٹھک ان کی مضبوط دفاعی شراکت داری کا عملی ثبوت ہے، جس کا مقصد مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت طے پانے والے نکات کو فوری طور پر مؤثر عسکری تعاون میں تبدیل کرنا ہے۔
تینوں ممالک کے فوجی سربراہان نے اجتماعی دفاع کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے باور کرایا کہ وہ مملکتِ سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے باہم متحد اور پوری طرح پرعزم ہیں۔