ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری فریم ورک جاری، آپریٹرز 5 ستمبر تک لائسنس کیلئے درخواست دیں

ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری فریم ورک جاری، آپریٹرز 5 ستمبر تک لائسنس کیلئے درخواست دیں

Aug 22, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد (ویب ڈیسک): پاکستان نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے فروغ اور ورچوئل اثاثہ جات کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک شفاف اور جامع ریگولیٹری نظام کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) نے لائسنسنگ ریگولیشنز کے اجرا کے ساتھ آن لائن درخواست پورٹل بھی فعال کر دیا ہے۔


ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت 10 کیٹیگریز کا اعلان

نئے فریم ورک کے تحت موجودہ تمام آپریٹرز کے لیے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ 5 ستمبر 2026 تک اپنے لائسنس کے حصول کی درخواستیں جمع کرائیں۔


لائسنس کی اقسام: 10 مختلف کیٹیگریز میں کرپٹو و ڈیجیٹل ایکسچینجز، بروکر ڈیلرز، ایڈوائزری سروسز، کرپٹو مائننگ، اور قرض کے لین دین (Lending & Borrowing) کی خدمات شامل ہیں۔


قومی بینکاری سے رابطہ: لائسنس یافتہ آپریٹرز کو باقاعدہ ملکی بینکاری نظام سے منسلک کیا جائے گا تاکہ مالی لین دین میں شفافیت یقینی ہو۔


عالمی سرمایہ کاری کی راہ ہموار: قانونی تحفظ کے ذریعے ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کے لیے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔


چیئرمین بلال بن ثاقب کا مؤقف

وزیر مملکت اور چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی، بلال بن ثاقب کے مطابق ایکٹ کی منظوری کے محض 6 ماہ کے قلیل عرصے میں ایک فعال ریگولیٹر اور مکمل لائسنسنگ فریم ورک قائم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد لاکھوں پاکستانی سرمایہ کاروں کے اثاثوں کو محفوظ بنانا اور سروس پرووائیڈرز پر قانونی ذمہ داریاں عائد کرنا ہے