بھارت: مودی حکومت میں مسیحی برادری کی عبادات پر بھی سخت پابندیاں عائد

بھارت: مودی حکومت میں مسیحی برادری کی عبادات پر بھی سخت پابندیاں عائد

Oct 6, 2026|ویب ڈیسک



نئی دہلی: بھارت میں مودی سرکار کے دورِ حکومت کے دوران اقلیتوں کے حقوق کی مسلسل پامالی اور ریاستی جبر کے باعث مذہبی آزادی شدید ترین بحران کا شکار ہو چکی ہے، جہاں اب مسیحی برادری کو بھی کڑی نگرانی اور پابندیوں کا سامنا ہے۔


برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں اقلیت مخالف متنازع قوانین کے نفاذ کے ذریعے عیسائیوں کے عبادت کے بنیادی حق کو سخت نگرانی میں جکڑ دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مسیحی برادری عبادت گاہوں میں حاضری کے لیے شناختی کارڈ نمبر اور ذاتی کوائف کی لازمی تصدیق پر مجبور ہو چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے باعث اقلیتیں، بالخصوص مسیحی برادری، اپنے مقدس ترین مقامات پر بھی خود کو غیر محفوظ تصور کر رہی ہے۔


دوسری جانب، اقلیتوں پر بڑھتے ہوئے حملوں اور ریاستی امتیازی سلوک کا نوٹس لیتے ہوئے امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (یو ایس سی آئی آر ایف) نے بھارت کے خلاف سخت قدم اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نے مسلسل خلاف ورزیوں پر بھارت کو باضابطہ طور پر ’’خاص تشویش کا ملک‘‘ (سی پی سی) قرار دینے کی سفارش کر دی ہے۔