پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام متعارف، عالمی مالیاتی مارکیٹ میں بڑی پیش رفت

پاکستان میں پہلا ڈی پی آر پروگرام متعارف، عالمی مالیاتی مارکیٹ میں بڑی پیش رفت

Aug 21, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد — پاکستان نے بین الاقوامی مارکیٹ سے طویل مدتی سرمایہ کاری کے حصول کے لیے اپنا پہلا ڈائیورسفائیڈ پیمنٹ رائٹس (DPR) پروگرام باضابطہ طور پر متعارف کرا دیا ہے۔ مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد کے مطابق، یہ پروگرام ملکی مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور غیر ملکی کرنسی کے وسائل میں تنوع لانے کی جانب ایک تاریخی سنگ میل ہے۔

​اس اسٹرٹیجک اقدام کے تحت انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (IFC) اور بینک الفلاح کے درمیان اہم پروجیکٹ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے ذریعے ابتدائی مرحلے میں پاکستان کو 100 ملین امریکی ڈالر تک کی طویل مدتی فنانسنگ دستیاب ہوگی۔

عالمی فنانسنگ اور بینکنگ سیکٹر کے لیے نئے مواقع

​مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے واضح کیا کہ ڈی پی آر ماڈل پاکستان کے لیے عالمی کیپیٹل مارکیٹس تک براہِ راست رسائی کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ اختراعی مالیاتی ڈھانچہ غیر ملکی کرنسی کے ذرائع کو وسعت دے کر پیداواری اور ترقیاتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو یقینی بنائے گا۔

​انہوں نے مزید کہا کہ بینک الفلاح اور آئی ایف سی کا یہ اشتراک ملکی بینکاری نظام کے لیے ایک نئی مثال قائم کرے گا، جس کی پیروی کرتے ہوئے دیگر پاکستانی کمرشل بینکس بھی عالمی سرمایہ کاروں سے براہِ راست منسلک ہو سکیں گے۔

ڈی پی آر پروگرام کے بنیادی فوائد اور خدوخال

​طویل مدتی فارن فنانسنگ: عالمی سرمایہ کاروں سے غیر ملکی کرنسی میں براہ راست اور مستحکم سرمایہ کاری کا حصول۔

​100 ملین ڈالر کا ابتدائی فریم ورک: آئی ایف سی اور بینک الفلاح کے اشتراک سے 100 ملین امریکی ڈالر کی ابتدائی فنانسنگ کا اجراء۔

​مالیاتی ذرائع میں تنوع: روایتی قرضوں پر انحصار کم کر کے جدید اسٹرکچرڈ فنانس ماڈلز کا فروغ۔

​بینکنگ سیکٹر کے لیے بینچ مارک: ملکی کمرشل بینکوں کے لیے بین الاقوامی سرمایہ مارکیٹوں میں داخلے کا مؤثر راستہ۔