بلوچستان میں خواتین وکلاء کی تعداد میں اضافہ، مثبت پیش رفت

بلوچستان میں خواتین وکلاء کی تعداد میں اضافہ، مثبت پیش رفت

Sep 19, 2026|ویب ڈیسک

بلوچستان کی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین اب روایتی شعبوں سے آگے بڑھ کر وکالت کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں، جس سے صوبے کے عدالتی نظام میں ایک واضح اور مثبت تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔


کوئٹہ کی عدالتوں میں خواتین وکلاء کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس وقت 150 کے قریب خواتین وکلاء باقاعدہ پریکٹس کر رہی ہیں۔ صوبے میں ہر سال 20 سے 25 نئی خواتین وکلاء عملی میدان میں داخل ہو کر سائلین کو انصاف کی فراہمی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔


قانونی ماہرین کے مطابق بلوچستان کی خواتین کے لیے شعبہ وکالت باعزت روزگار اور خود مختاری کے حصول کا ایک مؤثر اور باوقار ذریعہ ثابت ہو رہا ہے۔ کوئٹہ میں پریکٹس کرنے والی خواتین وکلاء صوبے کی دیگر طالبات کے لیے بھی مشعلِ راہ بن رہی ہیں، جس سے نوجوان نسل میں قانون کی تعلیم حاصل کرنے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔


اس حوالے سے ایڈووکیٹ فرزانہ خلجی کا کہنا ہے کہ عدالتوں میں خواتین وکلاء کی موجودگی سے سائل خواتین کو بڑی سہولت میسر آئی ہے، کیونکہ وہ اپنے پیچیدہ خاندانی اور قانونی مسائل مرد وکلاء کی نسبت خواتین وکلاء کے سامنے زیادہ اعتماد، کھلے دل اور بلا جھجھک بیان کر سکتی ہیں