مودی کے ہندوتوا ایجنڈے کو دھچکا، امریکی ادارے کا آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ
واشنگٹن / نئی دہلی — بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور مذہبی عدم برداشت پر امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی (USCIRF) نے سخت مؤقف اپناتے ہوئے ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر پابندی عائد کرنے کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے۔ ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی ورلڈ کی رپورٹ کے مطابق، یہ پیش رفت آر ایس ایس سربراہ کے دورۂ امریکہ سے قبل سامنے آئی ہے جس سے مودی حکومت کے ہندوتوا ایجنڈے کو عالمی سطح پر شدید خفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
امریکی کمیشن کے کمشنر ڈاکٹر عاصف محمود نے واضح کیا کہ مودی سرکار کی سرپرستی میں انتہا پسند گروہ مسلمانوں سمیت تمام بھارتی اقلیتوں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں، جس کے تدارک کے لیے واشنگٹن کو فوری تادیبی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
عالمی اداروں کے انکشافات اور مذہبی آزادی کی پامالی
امریکی کمیشن برائے مذہبی آزادی کی رپورٹ 2026 میں آر ایس ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ پر پابندی عائد کرنے کی واضح سفارشات کی گئی ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت معتبر عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے بھی بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف منظم ریاستی سرپرستی میں ہونے والی زیادتیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
بھارتی سماجی کارکن عاصف مجتبیٰ کے مطابق، بھارت کے موجودہ ماحول میں مسلمان ہونا بذاتِ خود انتہا پسندوں کے نشانے پر آنے کا بڑا سبب بن چکا ہے۔ مزید برآں، سابق آر ایس ایس رہنما یشونت سہدیَو شندے کے بیانات نے بھی تنظیم کے پرتشدد عزائم کو بے نقاب کیا ہے، جن کے مطابق تنظیم سے وابستہ عناصر نفرت اور فسادات کو ہوا دینے کی منظم مہم چلا رہے ہیں۔
رپورٹ کے اہم نکات اور الزامات
پابندی کا باضابطہ مطالبہ: امریکی کمیشن نے آر ایس ایس کو مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں پر بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کی۔
ریاستی سرپرستی پر تنقید: مودی حکومت کی ایماء پر مسلم کش پالیسیوں اور اقلیتوں کو ہراساں کرنے کی کارروائیوں کا نوٹس۔
عالمی اداروں کی تائید: ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے بھارتی اقلیتوں پر مظالم کی توثیق۔
اندرونی شواہد: سابق رہنماؤں کی جانب سے آر ایس ایس کے انتہا پسندانہ اور تفرقہ انگیز ہتھکنڈوں کا پردہ چاک۔