مودی سرکار کی معاشی پالیسیاں ناکام: بھارت میں ڈگریوں کے باوجود نوجوان بے روزگار
نئی دہلی: بھارت میں شدید معاشی دباؤ اور بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے بحران نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ مودی حکومت کے دورِ اقتدار میں روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونے کے سبب بھارتی معاشی ترقی کے حکومتی دعوے بے نقاب ہو گئے ہیں، جبکہ بین الاقوامی جریدوں اور تحقیقی رپورٹس نے ملکی افرادی قوت میں پیدا ہونے والے سنگین بگاڑ پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹس: تعلیمی ڈگریاں اور روزگار کا قحط
بین الاقوامی جریدے دی نیویارک ٹائمز اور بلومبرگ کی تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق، بھارتی تعلیمی اداروں سے ہر سال فارغ التحصیل ہونے والے لاکھوں گریجویٹس کی تعداد مارکیٹ میں دستیاب ملازمتوں کے مواقع سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔
اہم معاشی انڈیکیٹرز اور تجزیاتی نکات:
گریجویٹس کی بے روزگاری: بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق بھارت میں 25 سال سے کم عمر تقریباً 40 فیصد گریجویٹس روزگار کے شدید بحران کا شکار ہیں۔
بھاری تعلیمی اخراجات بمقابلہ محدود مواقع: بلومبرگ کی رپورٹر روچی بھاٹیا کے مطابق، بھارتی خاندان اپنی جمع پونجی اور لاکھوں روپے اعلیٰ تعلیم پر خرچ کر رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود گریجویٹس کو بنیادی ملازمتوں کے لیے بھی در بدر ہونا پڑ رہا ہے۔
پیداواری صلاحیت اور روزگار کا عدم توازن: بھارتی تعلیمی فیلوشپ پروگرام کے بانی اکشے سکسینا کے مطابق، تعلیمی ڈگریوں اور صنعتی مارکیٹ کی طلب کے درمیان بڑھتا ہوا خلیج ملک کے ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
پالیسی سازی میں خامی: بلومبرگ کے تجزیہ کار ڈین اسٹرَمف نے نشاندہی کی ہے کہ موجودہ حکومت کی غیر متوازن اقتصادی پالیسیوں نے نوجوانوں کے لیے تعلیم کے بعد عملی کیریئر کے آغاز کو انتہائی پیچیدہ اور دشوار بنا دیا ہے۔
اقتصادی ترقی کے دعوے اور زمینی حقائق
اقتصادی ماہرین کے مطابق، جب تک ملکی پالیسیاں صرف کاغذی شرحِ نمو کے بجائے ٹھوس روزگار پیدا کرنے پر مرکوز نہیں ہوں گی، تب تک نوجوان افرادی قوت کا یہ بحران مزید سنگین ہوتا جائے گا