مودی سرکار کے دعوے بے نقاب، کروڑوں بھارتی نوجوان بے روزگاری کے بھنور میں پھنس گئے
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے نام نہاد ’شائننگ انڈیا‘ کے دعووں کے برعکس ملک کے کروڑوں نوجوان شدید تعلیمی بحران اور بے روزگاری کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔
بھارتی جریدے ’دی وائر‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے سرکاری سروے نے مودی سرکار کی ناقص معاشی پالیسیوں کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کے 250 اضلاع میں تقریباً 25 فیصد نوجوان بنیادی تعلیم اور باعزت روزگار سے یکسر محروم ہیں۔
رپورٹ کے ہوشربا اعداد و شمار کے مطابق اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے بھی روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بھارت میں صرف 7 فیصد گریجویٹس ایک سال کے اندر ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے، جبکہ 93 فیصد اعلیٰ ڈگری ہولڈرز روزگار کے حصول میں بری طرح ناکام رہے۔
اقتصادی تحقیق کی معروف ماہر پروفیسر سونالدی دیسائی نے بھی مودی کے دورِ حکومت میں ملک بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صورتحال کو سنگین قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایک بھارتی تھنک ٹینک کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارت میں 15 سے 29 سال کی درمیانی عمر کے تقریباً 8 کروڑ 70 لاکھ نوجوانوں کو نہ تو تعلیم اور نہ ہی روزگار کے مواقع میسر ہیں۔ معاشی ماہرین اور مبصرین کا ماننا ہے کہ ناقص ترجیحات اور سیاسی نعروں کے باعث بھارتی نوجوانوں کا روشن مستقبل مودی کی انتخابی سیاست کی نذر ہو چکا ہے