خواتین پر پابندیاں، دہشتگردی کے خطرات: سلامتی کونسل کی افغان صورتحال پر سخت تشویش
نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے افغانستان کی مجموعی صورتحال پر جاری حالیہ رپورٹ میں طالبان کے زیرِ انتظام ملک میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، فقدانِ حکمرانی اور پنپتی ہوئی دہشت گردی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، خواتین اور لڑکیوں پر عائد بڑھتی ہوئی پابندیاں افغانستان کو درپیش سنگین ترین چیلنجز میں شامل ہیں۔ تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں خواتین کی شمولیت پر منظم پابندیوں کو بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں، جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سلامتی کے لیے بھی مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردی اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف ٹھوس اور مسلسل اقدامات کرے۔
اس کے علاوہ رپورٹ میں موجودہ افغان حکومتی نظام میں اختیارات کی مرکزیت اور سیاسی عمل میں محدود شمولیت (انکلوسیوٹی کے فقدان) پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مندرجات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سخت پابندیوں اور دہشت گردی کے سائے میں افغانستان ایک غیر محفوظ ملک بنتا جا رہا ہے جس پر عالمی برادری کی تشویش برقرار ہے۔
متبادل سرخیاں:
* افغانستان میں دہشتگرد گروہ تاحال سرگرم، علاقائی سلامتی کو خطرہ ہے: اقوام متحدہ کی رپورٹ
* طالبان حکومت پر عالمی دباؤ میں اضافہ: سلامتی کونسل کا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر اظہارِ تشویش