*ڈی جی آئی ایس پی آر کا عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو خصوصی انٹرویو*

*ڈی جی آئی ایس پی آر کا عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو خصوصی انٹرویو*

Oct 31, 2026|ویب ڈیسک

*ڈی جی آئی ایس پی آر کا عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کو خصوصی انٹرویو*


*ڈی جی آئی ایس پی آر کا رائٹرزکو دیے گئےخصوصی انٹرویو میں کہنا تھاکہ؛*


پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے حوالے سے محتاط طور پر پُرامید ہے، *ڈی جی آئی ایس پی آر*


اگر کوئی مثبت پیش رفت کی علامت نہ ہوتی تو فیلڈ مارشل دو بار (ایران ) کیوں جاتے؟ *ڈی جی آئی ایس پی آر*


امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے والے طاقتور عناصر ہمیشہ موجود ہیں، *ڈی جی آئی ایس پی آر*


سعودی عرب مزید پاکستانی فوجی بھیجنے کا فیصلہ حالات اور دونوں ممالک کی سیاسی قیادت کے فیصلے سے مشروط ہے


کولیکٹو ڈیٹرنس اور علاقائی امن کا مشترکہ وژن رکھنے والے ممالک (مکہ مشترکہ دفاعی) اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں، *ڈی جی آئی ایس پی آر*


مکہ مشترکہ دفاعی معاہدےمیں نئے ممالک کی شمولیت کا فیصلہ تینوں ممالک کی سیاسی قیادت نے کرنا ہے، *ڈی جی آئی ایس پی آر*


پاکستان سعودی عرب اور مقدس مقامات مکہ ومدینہ کے دفاع کے لیے پُرعزم ہے، *ڈی جی آئی ایس پی آر*


یمن کا تنازع یمن کا اندرونی معاملہ ہے، پاکستان اس تنازع کا حصہ نہیں بلکہ سعودی عرب اور حرمین شریفین کےتحفظ کے لئے موجود ہے ، *ڈی جی آئی ایس پی آر*


خیبر پختونخوا میں بڑے آپریشنز نہیں بلکہ انسدادِ دہشت گردی کے لیے انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں (IBOs) مزید تیز کی جائیں گی، *ڈی جی آئی ایس پی آر*