ریاستی دہشت گردی کے لیے بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ، غزہ میں بھارتی اسلحے کا استعمال عالمی تشویش کا باعث

ریاستی دہشت گردی کے لیے بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ، غزہ میں بھارتی اسلحے کا استعمال عالمی تشویش کا باعث

Jul 31, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد / لندن (ویب ڈیسک)​اسرائیل اور بھارت کے درمیان بڑھتے ہوئے ملٹری و دفاعی تعلقات عالمی سطح پر شدید تشویش کا باعث بن گئے ہیں۔ بین الاقوامی جریدے الجزیرہ اور برطانوی انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے اسرائیل کو کی جانے والی اسلحے کی فراہمی غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی میں براہِ راست معاونت کا سبب بن رہی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام اور انتشار خطرناک حد تک بڑھ رہا ہے۔

'الجزیرہ' اور 'ایمنسٹی انٹرنیشنل' کی رپورٹ کے اہم انکشافات

​عالمی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، بھارت نے اسرائیلی دفاعی شعبے کے ساتھ ایک وسیع اور منظم اشتراک قائم کر رکھا ہے، جہاں وہ صیہونی فوج کی ملٹری سپلائی چینز میں ایک بنیادی اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔

​رپورٹ کے اہم ترین نکات:

​اسلحہ کی شپمنٹس: اکتوبر 2023 کے بعد سے بھارت سے اسرائیل بھیجی جانے والی اسلحے اور بارود کی کم از کم 2,596 شپمنٹس کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

​حکومتی اور ریاستی سرپرستی: رپورٹ میں بھارت کی ریاستی ملکیت اور حکومتی کنٹرول میں کام کرنے والی دفاعی کمپنیوں کی جانب سے براہِ راست اسلحے کی فروخت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

​فلسطینیوں کا قتلِ عام: عالمی صحافی جُولیدے آیگر کے مطابق مودی دورِ حکومت میں اسرائیل کو فراہم کردہ بھارتی ہتھیار 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی نسل کشی میں استعمال ہو رہے ہیں۔

بین الاقوامی برادری کا ردِعمل اور جیرمی کوربن کا مطالبہ

​عالمی برادری کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر غزہ میں اسرائیلی مظالم کی نشر و اشاعت کے باوجود، مودی حکومت صیہونی رژیم کو مسلسل عسکری و لاجسٹک معاونت فراہم کر رہی ہے۔

​جیرمی کوربن کا موقف: برطانوی سیاستدان اور رکنِ پارلیمنٹ جیرمی کوربن نے اسرائیل کو اسلحے کی روزافزوں فروخت اور غزہ پالیسی پر فوری نظرِ ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے بھارت اور دیگر اتحادیوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

​عالمی تحفظات: دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کا یہ غیر مقدس گٹھ جوڑ خطے کی سیکیورٹی، انسانی حقوق کی عالمی پاسداری اور بین الاقوامی قوانین کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔