بھارت اور افغان طالبان گٹھ جوڑ فاش: ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر بھارتی ترجمان لاجواب

بھارت اور افغان طالبان گٹھ جوڑ فاش: ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر بھارتی ترجمان لاجواب

Aug 5, 2026|ویب ڈیسک

ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھارت اور افغان طالبان کے اسٹریٹجک گٹھ جوڑ کو فاش کیے جانے کے بعد بھارتی وزارتِ خارجہ کا نمائندہ پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے سوالات کا باضابطہ جواب دینے سے قاصر رہا۔


صحافی کی جانب سے پاک فوج کے ترجمان کے بیان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر بھارتی نمائندے نے معاملے کی سنگینی کو نظر انداز کرتے ہوئے اسے محض "فرسٹریشن" قرار دے کر ٹالنے کی کوشش کی۔


یکساں نظریاتی مقاصد اور ڈی این اے کا دعویٰ

یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب افغان طالبان کے ایک وزیر نے بھارت کے دورے کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ افغان طالبان اور بھارت کا "ڈی این اے ایک ہی ہے"۔


اس دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دونوں کے درمیان قائم روابط کو واضح کیا:


"ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ افغان طالبان اور بھارت دہشت گردی کے فروغ کے معاملے میں ایک پیج پر ہیں۔ بھارت اور افغان طالبان کا ڈی این اے ایک ہی ہے۔" — ڈی جی آئی ایس پی آر


ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کے اہم نکات:

نظریاتی یکسانیت: بھارت میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں جبکہ طالبان کا رویہ اسلام کی غلط عکاسی کا باعث بن رہا ہے۔


آقا اور غلام کا تعلق: بھارت میں بی جے پی اور آر ایس ایس کا افغان طالبان کے ساتھ تعلق آقا اور غلام کی مانند ہے۔


اقلیتوں پر مظالم: ہندوتوا نظریے کے تحت آر ایس ایس بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں اور ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔


ماہرینِ دفاع کا تجزیہ: علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات

دفاعی اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت خطے میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے دہشت گرد عناصر کو استعمال کر رہا ہے، جبکہ افغان طالبان ان گروہوں کی سرپرستی کے بدلے مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔


فتنہ الخوارج اور مالی سرپرستی: ماہرین کے مطابق فتنہ الخوارج جیسے گروہ افغان سرزمین پر فراہم کردہ سہولیات اور بھارتی مالی معاونت کے ذریعے سرگرم ہیں۔


پاکستان کے موقف کی تائید: بھارتی وزارتِ خارجہ کا معذرت خواہانہ رویہ اور افغان طالبان کی حمایت، دہشت گردی کی سرپرستی سے متعلق پاکستان کے دیرینہ موقف کی توثیق کرتا ہے