طالبان دور میں انسانی اسمگلنگ، بچوں کے استحصال میں اضافہ، امریکی رپورٹ

طالبان دور میں انسانی اسمگلنگ، بچوں کے استحصال میں اضافہ، امریکی رپورٹ

Oct 12, 2026|ویب ڈیسک


واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ برائے 2026 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے زیرِ اقتدار انسانی اسمگلنگ اور بچوں کے استحصال کے سنگین واقعات تیزی سے بڑھے ہیں، جبکہ موجودہ حکومت ان کے خاتمے میں مکمل ناکام رہی ہے۔


رپورٹ کے مطابق افغانستان میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور معاشی عدم تحفظ کے باعث عام اور نادار افغان شہری انسانی اسمگلروں کا آسان ہدف بن رہے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ طالبان رجیم انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے بنیادی بین الاقوامی معیارات پر پورا اترنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور اس لعنت کے تدارک کے لیے کوئی مؤثر عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔


رپورٹ میں مزید ہوشربا تفصیلات سامنے لاتے ہوئے کہا گیا کہ طالبان کے زیرِ اقتدار بچوں کو عسکری و معاون سرگرمیوں کے لیے زبردستی بھرتی کرنے اور جنسی استحصال کا نشانہ بنانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ طالبان حکومت نہ تو انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کر سکی، نہ ہی متاثرہ افراد کے تحفظ اور مجرمان کے خلاف قانونی کارروائیوں کا کوئی مصدقہ ریکارڈ پیش کر سکی ہے۔


دوسری جانب اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں نے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں خواتین، بچوں اور شدید مقروض خاندانوں کو جبری مشقت، جنسی استحصال اور انسانی اسمگلنگ کے کڑے خطرات درپیش ہیں، جس سے انسانی المیہ مزید سنگین ہو رہا ہے۔