مقبوضہ کشمیر اور منی پور کے بعد نئی دہلی میں بھی نہتے مظاہرین پر پیلٹ گنز کا وحشیانہ استعمال
نئی دہلی — بھارت میں مقبوضہ کشمیر اور منی پور کے بعد اب دارالحکومت نئی دہلی میں بھی اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف ریاستی جبر کا بے دریغ استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ امتحانی پرچے لیک ہونے کی خلاف ورزی پر مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر لاٹھی چارج، فائرنگ اور پیلٹ گنز کے استعمال نے عالمی اور داخلی سطح پر مودی سرکار کو شدید تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
راہول گاندھی کا پریس کانفرنس میں زخمی طالب علم کا انکشاف
کانگریس کے مرکزی رہنما راہول گاندھی نے پیلٹ گن سے شدید زخمی ہونے والے ایک نوجوان کو میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہوئے مودی حکومت کے سفاکانہ رویے کی قلعی کھول دی ہے۔
"پرامن احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا گیا، جس کی وجہ سے اس نوجوان کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہے،" راہول گاندھی نے میڈیا کو بتایا۔
موجودہ کشیدہ صورتحال کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
طلبہ پر بدترین تشدد: سالوں کی محنت ضائع ہونے پر سڑکوں پر نکلنے والے ہزاروں بھارتی نوجوانوں پر لاٹھی چارج کر کے انہیں شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
تحریک کا دائرہ کار: سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق امتحانی بدانتظامی کے خلاف نوجوانوں کا یہ احتجاج اب محض نئی دہلی تک محدود نہیں رہا بلکہ بھارت کے دیگر اہم شہروں تک پھیل چکا ہے۔
حکومتی بوکھلاہٹ: ملک بھر میں بڑھتے ہوئے خلفشار اور عوامی مسائل سے جنم لیتی تحریکوں کی وجہ سے مودی سرکار شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہو کر غیر قانونی طاقت کا سہارا لے رہی ہے۔
اقتدار کا بحران اور بڑھتا ہوا عوامی غصہ
سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرامن اور غیر مسلح طلبہ کے خلاف فوجی ہتھیاروں اور پیلٹ گنز کا استعمال یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت کے پاس عوامی مطالبات کا کوئی جمہوری حل موجود نہیں ہے۔ امتحانی پیپرز کی شفافیت میں ناکامی کے بعد اب ریاستی تشدد نے نوجوانوں کے غصے کو مزید بھڑکا دیا ہے۔