بلوچستان میں 11 ڈویژنز 41 اضلاع اور بے شمار سوالات
بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے بدامنی محرومی احساسِ بیگانگی بے روزگاری اور سیاسی بے یقینی کا شکار چلا آ رہا ہے بلوچستان کے بارے میں ایسے فیصلے کیے جا رہے ہیں جنہوں نے نئے سوالات نئی بحثوں اور نئے خدشات کو جنم دے دیا ہے بلوچستان میں 4 نئے ڈویژنز اور 5 نئے اضلاع کے قیام کے بعد صوبے میں ڈویژنز کی تعداد 11 اور اضلاع کی تعداد 41 ہو چکی ہے بظاہر یہ اقدام انتظامی اصلاحات قرار دیا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ان فیصلوں سے قبل بلوچستان کے تمام سیاسی قبائلی اور سماجی اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا گیا
عوام یہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا نئے اضلاع اور ڈویژنز کا قیام عوامی خواہش ہے یا ایک بار پھر بند کمروں میں تیار کی گئی کوئی نئی حکمت عملی کوئٹہ کو دو اضلاع میں تقسیم کرنا مستونگ کو قلات ڈویژن سے الگ کرکے کوئٹہ ڈویژن میں شامل کرنا تاریخی قلات ڈویژن کا خاتمہ اور نئے انتظامی نقشے کی تشکیل یقیناً ایک معمولی فیصلہ نہیں یہ ایسے فیصلے ہیں جن کے سیاسی سماجی اور قبائلی اثرات مستقبل میں سامنے آئیں گے چیف آف ساروان نواب اسلم رئیسانی سمیت مختلف سیاسی اور قبائلی حلقوں نے بھی اس حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے ان کا مؤقف ہے کہ ساروان اور جھالاوان صرف انتظامی نام نہیں بلکہ بلوچستان کی صدیوں پر محیط تاریخی شناخت ہیں اگر تاریخی اور جغرافیائی حقائق کو نظر انداز کیا گیا تو اس سے مزید غلط فہمیاں جنم لے سکتی ہیں
ایک اور اہم سوال وسائل کی تقسیم کا ہے کیا نئے اضلاع بننے سے وہاں یونیورسٹیاں میڈیکل کالجز ہسپتال عدالتیں پولیس دفاتر اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے یا صرف نقشوں میں تبدیلی کرکے اسے اصلاحات کا نام دے دیا جائے گا
بلوچستان کو صرف نقشوں فائلوں اور اعداد و شمار سے نہیں چلایا جا سکتا بلوچستان کی اپنی تاریخ، اپنی نفسیات اپنی حساسیت اور اپنی سیاسی حقیقت ہے اگر کل کو عوام کی مرضی مشاورت اور اعتماد کے بغیر ایسے فیصلے مسلط کیے گئے جن سے یہ تاثر پیدا ہو کہ بلوچستان کے وسائل ساحل یا جغرافیائی حیثیت کے بارے میں یکطرفہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تو اس سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں اور انتشار کو ہوا مل سکتی ہے اس وقت بلوچستان کسی نئے سیاسی یا انتظامی تجربے کا متحمل نہیں ہو سکتا
وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں قبائلی عمائدین ماہرین سول سوسائٹی اور حقیقی نمائندوں کو ایک میز پر بٹھایا جائے کھلے دل سے بات کی جائے اور ایسے فیصلے کیے جائیں جو پورے بلوچستان کے لیے قابلِ قبول ہوں