اب نہیں تو کب ؟

بلوچستان کے سردار اور وڈیرے اس لحاظ سے قابل تعریف ہیں کہ وہ حکومت میں ہوں یا ان کی اپنی حکومت ہو تو پھر وہ محب وطن ہوتے ہیں اور پاکستان کے سیاسی نظام کے بھی معترف ۔لیکن اگر انہیں سیاسی بندوبست میں شریک نہ کیا جائے یا ان کی حکومت نہ ہو تو وہ مروتا بھی حب الوطنی کے کسی تکلف میں نہیں پڑتے ،کچھ پہاڑوں پر چڑھ جاتے ہیں ،افغانستان کی کمین گاہیں بسا لیتے ہیں اور باقی ماندہ ان بندوق برداروں کے ترجمان بن جاتے ہیں اور ان کے لیے بیانیے ترویج کرتے ہیں ۔ان اسلحہ برداروں کو مظلوم ،محروم اور ناراض ثابت کرنا اور ان کی دہشت گردی کو جواز کے طور پر پیش کرنا ان کی ڈیوٹی بن جاتا ہے ۔ بلوچستان کی تاریخ اسی دائرے کے گرد گھوم رہی ہے ۔کچھ ناراض ہو جاتے ہیں اور باقی ان ناراضوں کا مقدمہ سیاست ،صحافت اور سماج میں لے کر نکل کھڑے ہوتے ہیں ۔

بندوق برداروں کے ان وکلا سے کوئی نہیں پوچھتا کہ کون سی محرومی اور کون سا ظلم ہے جو بشیر زیب اور ڈاکٹر اللہ نذر کے ساتھ ہوا اور کس غربت اور تنگدستی نے ہر بیار مری اور جاوید مینگل کو برطانیہ ،سوئٹزر لینڈ ،جنیوا اور دبئی میں بیٹھ کر ریاست کے خلاف مسلح لشکر تیار کرنے پر مجبور کیا اور کون سے حقوق خیر بخش مری ،عطا اللہ مینگل ،نواب اکبر بگٹی اور بالاچ مری کو نہیں ملے جن کے صدمے کے طور پر انہوں نے انتقاما ہتھیار اٹھائے یا ہتھیار اٹھانے والوں کی سہولت کاری کی ۔یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ قیام پاکستان سے لے کر اج تک بلوچستان میں حکومت کس کی رہی؟کیا گورنر اور وزیر اعلی پنجاب سے آکر بلوچستان پر حکومت کرتے رہے؟ کیا یہی مری ،بگٹی ،مینگل اور دوسرے نواب ،سردار بلوچستان کے حکمران رہے یاکوئی اور ؟کیسی بات ہہے حکمران بھی آپ اور محروم بھی آپ ،وزیر اعلی اور گورنر بھی آپ ،اسمبلی بھی آپ کی، سرداری بھی آپ کی ،زمینیں بھی آپ کی ،وسائل بھی آپ کے قبضہ میں اور مظلوم و محروم بھی آپ ۔تاریخ کے اسٹیج پرسرعام ایسا دوہرا کردار صرف بلوچ سردار اداکار ہی کر سکتے ہیں کسی اور میں اتنی اخلاق باختہ بے باقی ہونا مشکل ہے ۔


بلوچستان کی تاریخ کیا اسی دائرے میں ہی گھومتی رہے گی ؟ یا سماجی ارتقا کا جبر اس دائرے کو توڑنے میں کامیاب ہو جائے گا؟

میرا خیال ہے حالات ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے ،حکمرانی اور بغاوت کا گھناونا کھیل رچانے والے سردار اور بلوچ اشرافیہ اب بے نقاب ہو رہی ہے ،عام بلوچ ان کے شکنجے سے نکل رہا ہے ،فوج نے گراس روٹ لیول پر جا کر جو ڈویلپمنٹ اور سماجی بہبود کے شاہکار پراجیکٹ شروع کیے ہیں ان کے ثمرات ان وڈیروں اور سرداروں کو بائی پاس کر کے ڈائریکٹ بلوچ عوام تک منتقل کیے جا رہے ہیں ۔ان کی بڑی قوت لیویز فورس کا خاتمہ اور بارڈر پر سمگلنگ کی بندش ایسے اقدامات ہیں جس نے مافیاز کی چیخیں نکلوا دی ہیں ۔عام بلوچ کو حوصلہ مل رہا ہے اور وہ امور حکومت میں حصہ دار بن رہا ہے ۔فوج جان پر کھیل کر دہشت گردوں کا بھی مقابلہ کر رہی ہے اور حکومت کے کرنے کے کام بھی وہ کر رہی ہے ۔ڈویلپمنٹ کے پراجیکٹ ہوں ،تعلیمی منصوبے ،روزگار کی فراہمی اور بلوچ نوجوانوں کو بہتر مستقبل دینے کے پراجیکٹ ،فوج کے افسر اور جوان دن رات ان منصوبوں کی تکمیل میں جتے ہوئے ہیں ،ایسے میں بلوچ اشرافیہ جو حقیقت میں بلوچ مافیا بن چکا ہے وہ اور ان کے سہولت کار ان تمام منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک ہو گئے ۔اس وقت بی ایل اے کے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف فوج کی قیادت میں جو یکسوئی پائی جاتی ہے اسے برقرار رہنا چاہیے تاکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بلوچ عوام کو جبر کے چنگل سے آزاد کرایا جا سکے ۔اس وقت دہشت گردوں سے زیادہ خطرناک ان کے سیاسی سہولت کار ہیں جو عام آدمی کو کنفیوز اور گمراہ کر رہے ہیں ان کا محاسبہ اور ان کی بلیک میلنگ کو مسترد کرنا ضروری ہے ۔مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کے نام پر تاریخ میں بار بار جو کھیل کھیلا گیا اس کے نتائج پاکستان اور بلوچ عوام نے مسلسل بھگتے ہیں ،سیاسی بلیک میلر ہمیشہ جیتتے رہے اس بار جیت عوام کا مقدر بننا چاہیے ۔بلیک میلروں سے نجات ملنی چاہیے اور یکسوئی کے ساتھ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو عوام سے الگ کر کے منطقی انجام تک پہنچانا چاہیے ۔اگر اس بار بھی مفاہمت کے نام پر بلیک میل ہو گئے تو پھر یہ موقع کبھی نہیں ملے گا ۔