بھارت میں جین زی تحریک مودی سرکار کے لیے بڑا سیاسی امتحان بن گئی
نئی دہلی — بھارت میں نوجوانوں کی جاری منظم تحریک نے وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم بی جے پی سرکار کی انتظامی نااہلی اور حکومتی کمزوری کو عالمی سطح پر عیاں کر دیا ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امتحانی نظام میں بدانتظامی اور مسلسل پیپر لیکس کے واقعات نے طویل عرصے سے اقتدار میں موجود بی جے پی حکومت کے ان دعووں کی قلعی کھول دی ہے جن میں وہ بہترین انتظامی کنٹرول کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔
152 پرچے لیک، 7 کروڑ سے زائد طلبہ متاثر
بھارتی صحافتی حلقوں کے مطابق مودی دورِ حکومت میں اب تک 152 امتحانی پرچے لیک ہو چکے ہیں، جس کے باعث ساڑھے 7 کروڑ طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ چکا ہے۔
تحریک کے اہم خد و خال درج ذیل ہیں:
سوشل میڈیا کا استعمال: مرکزی میڈیا (گودی میڈیا) میں جگہ نہ ملنے پر احتجاجی نوجوانوں نے اپنے مطالبات دنیا تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کو ہتھیار بنا لیا ہے۔
سیاسی بیانیے میں تبدیلی: گزشتہ ایک دہائی سے بی جے پی کا سوشل میڈیا پر جو تسلط تھا، وہ اب مودی مخالف نوجوانوں کی توانا آواز میں تبدیل ہو رہا ہے۔
میڈیا پر تنقید: آزاد صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مرکزی میڈیا حکومت کی پشت پناہی میں مصروف ہے جبکہ نوجوانوں کے بنیادی مسائل کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
اپوزیشن کا شدید ردعمل
کانگریس رہنما راہول گاندھی نے مودی سرکار کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت احتجاج کے دوران پرتشدد حربوں اور پیلٹ گنز کے استعمال سے انکار کرتی رہی، لیکن متاثرہ طلبہ کے بیانات نے حکومتی دعووں کی حقیقت دنیا کے سامنے آشکار کر دی ہے۔