فتنہ الہندوستان کے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر حملے

”فتنہ الہندوستان کے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں پر حملے“      (حصہ اول)

  (نسیم الحق زاہدی)


سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد بھارت نے پاکستان کو اندرونی طور پر غیر مستحکم کرنے کے لیے بلوچستان کو ہدف بنایا۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی، بلوچستان میں موجود قدرتی وسائل کی کثرت، اور دوسری، اس کی غیر معمولی جغرافیائی اہمیت۔ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کی سرحدیں ایک جانب ایران اور دوسری جانب افغانستان سے ملتی ہیں، اسی لیے اسے سونے کی چڑیا بھی کہا جاتا ہے۔بھارت نے بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے لیے بلوچستان کے الحاق سے متعلق من گھڑت کہانیاں گھڑیں۔ بلوچ عوام کو یہ باور کرایا گیا کہ صوبے کے وسائل پر صرف بلوچوں کا حق ہے، مگر ان سے یہ حق چھینا جا رہا ہے۔ اس کے بعد ”بلوچ آزادی“کے نام نہاد نعرے کو استعمال کرتے ہوئے بلوچ نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہتھیار تھما دیے گئے، دہشت گرد تنظیمیں تشکیل دی گئیں اور انہیں اسلحہ، تربیت اور فنڈنگ فراہم کی گئی۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس کی ایک واضح مثال ہے۔بلوچستان میں جیسے ہی سی پیک اور ریکوڈک جیسے قومی اہمیت کے حامل منصوبوں پر کام شروع ہوا، دہشت گردی میں اچانک تیزی آ گئی۔ بھارت نے اپنی پروردہ تنظیموں کے ذریعے ان منصوبوں کو نشانہ بنایا اور چینی و پاکستانی انجینئرز پر حملے کروائے۔ ان تمام کارروائیوں کا مقصد صرف ایک تھا، بلوچستان میں جاری ترقیاتی عمل کو روکنا، کیونکہ بلوچستان کی ترقی سے ان کا ”محرومی“اور ”پسماندگی“کا پراپیگنڈا زمین بوس ہو جائے گا۔ یہی وہ چورن ہے جسے بیچ کر وہ بلوچ نوجوانوں کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ریاست کی جانب سے بلوچستان کی خوشحالی کے لیے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ دوسری جانب فتنہ الہندوستان کی پروردہ کالعدم تنظیمیں بالخصوص بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف)مسلسل ان منصوبوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔اس کا واضح ثبوت جنوری 2025 سے مئی 2026 تک کی ایک مختصر رپورٹ: 2جنوری 2025کو بی ایل ایف نے وڈھ میں بسم اللہ ہوٹل کے قریب سول ٹھیکیدار کی گاڑی کو نشانہ بنایا،18جنوری کو بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے آواران کے علاقے پیر اندر میں تعمیراتی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا،7فروری کو خضدار کے علاقے گریشہ جاور جی میں تعمیراتی منصوبے پر حملہ کرکے تمام مشینری نذر آتش کردی۔17فروری کو بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے دہشت گردوں نے تربت کے علاقے ناصر آباد میں 4 تعمیراتی گاڑیوں اور دیگر مشینری نذر آتش کردی، 28فروری کو خاران کے علاقے کلان میں تعمیراتی کمپنی کی سائٹ پر حملہ کرکے تمام مشینری کو جلا دیا، 2مارچ کو مشکے کے علاقے رونجھان میں مقامی تعمیراتی منصوبے پر حملہ کرکے مشینری کو بھاری نقصان پہنچایا، 4مارچ کو پسنی میں تعمیراتی گاڑیوں کو نذر آتش کیا، 6مارچ کو پنجگور کے علاقے تسپ میں تعمیراتی مشینری کو آگ لگا دی، 2اپریل کو خاران کے علاقے ناگٹ میں یوفون کے ٹاور پر حملہ کرکے مشینری کو نذر آتش کردیا، 10اپریل کو خاران اور وڈھ میں تعمیراتی مشینری کی گاڑیوں پر دستی بم اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کرکے شدید نقصان پہنچایا، 13اپریل کو خاران کے علاقے راسکوہ میں یوفون کے ٹاور پر حملہ کرکے مشینری کو نذر آتش کردیا، یکم مئی کو آواران مالار میں تعمیراتی منصوبے کو نقصان پہنچایا، 3مئی کو دشت بلنگور کے علاقے سورک میں مقامی ٹھیکیدار کے ٹریکٹروں کے ٹائر برسٹ کردیے جبکہ 4مئی کو خاران کے زرین جنگل میں تعمیراتی مشینری کو نذر آتش کیا، 5مئی کو مسلح دہشت گردوں نے گوادر کے علاقے ریکانی میں زونگ موبائل ٹاور کو نذر آتش کیا، 6مئی کو پروم کے علاقے جائین میں مقامی تاجر کا اشیائے خوردونوش سے بھرے ٹرک کو نقصان پہنچایا، 23مئی کو ساجدی بازار کولواہ میں مواصلاتی نظام پر حملہ کرکے مشینری کو نقصان پہنچایا، 31مئی کو بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے کولواہ کے علاقے شاہو باتل میں مواصلاتی نظام پر حملہ کرکے تمام مشینری کو نذر آتش کردیا، 9جون کو جیونی پانوان کے کوہ سربازار میں موبائل ٹاور کو آگ لگا دی، 15جون کو خضدار کے علاقے وڈھ بازار میں صادق ہوٹل کے قریب یوفون ٹاور پر حملہ کرکے مشینری نذر آتش کردی، 17جون کو خضدار کے علاقے وڈھ میں حبیب ہوٹل کے قریب مقامی ٹھیکیدار کے ٹرک پر حملہ کرکے انجن اور ٹائروں کو نقصان پہنچایا، 20جون کو مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں بلوچستان ہوٹل کے قریب مقامی ٹھیکیدار کے جنریٹر ٹرکوں پر حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچایا، 22جون کو خضدار کے علاقے وڈھ ڈھکلو میں مقامی ٹھیکیدار کی دو گاڑیوں پر حملہ کرکے سامان کو نقصان پہنچایا، 26جون کو بی ایل اے نے مستونگ میں تین مختلف مقامات پر مقامی ٹھیکیدار کی گاڑیوں پر حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچایا، 28جون کو مستونگ میں تعمیراتی گاڑیوں پر حملہ کرکے نذر آتش کردیا گیا،6ستمبرکوبی ایل ایف نے آواران کے علاقے پیر اندر،جھکرومیں تعمیراتی مشینری کو تباہ کیا، 7ستمبر کو بی ایل ایف کے دہشت گردوں نے سوراب میں مقامی روڈ کی تعمیراتی دو گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، 9ستمبر کو آواران تابیلہ شاہراہ ”انگریزی چڑھائی“کے مقام پر تعمیراتی مشینری کو نذر آتش کیا، 21ستمبر کو ڈھاڈر میں مقامی گیس پائپ لائن کو دھماکے میں اڑا دیا گیا، 27ستمبر کو قلات کے علاقے خزینئی میں مقامی ٹھیکیدار کی تعمیراتی گاڑی پر حملہ کرکے نقصان پہنچایا، 17اکتوبرکو بی ایل ایف نے مستونگ کھڈ کوچہ سول ٹھیکیدار کے ٹرکوں کو نذر آتش کیا،21اکتوبرکو بی این اے نے تربت سے تمپ جاتے ہوئے مقامی روڈ کے ٹھیکیدار کی گاڑی پر فائرنگ کرکے ناکارہ بنادیا،31اکتوبرکوبی ایل ایف نے کوہلو کے علاقے لاسئے زئی میں کے قریب ببرتاک کے مقام پر سول ٹھیکیدار کی کمپنی پر حملہ کیا،3دسمبر کو بی ایل اے نے پنجگور میں مقامی تاجر کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا، اور 3دسمبر کو بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این اے) نے گورکوپ میں مقامی روڈ کی تعمیر پر مامور سیکیورٹی گارڈ پر حملہ کیا،23دسمبر کو بی ایل ایف نے کونال کے علاقے کلیٹری میں سول ٹھیکیدار کی تعمیراتی مشینری کو نقصان پہنچایا۔گذشتہ سال 2025میں مجموعی طور پر 35مقامی ترقیاتی منصوبوں ان پر کام کرنے والے مزدوروں،مشینری اور مواصلاتی نظام پر حملے کیے گئے۔ (جاری ہے)