خضدار: فتنہ الہندوستان کی دہشتگردی، مقامی بلوچ شہری کی گاڑی نذرِ آتش
خضدار (ویب ڈیسک): بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں نے ایک بار پھر عوام دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے خضدار کے قریب ایک عام بلوچ شہری کے روزگار کو تباہ کر دیا۔ قومی پرستی کے نام پر بلوچ عوام ہی کے جان و مال پر حملہ کرنے والے شرپسندوں نے ڈیزل سے بھری ایک شہری کی گاڑی کو آگ لگا دی۔
واقعے کی تفصیلات
ذرائع کے مطابق یہ ناخوشگوار واقعہ خضدار میں ہڑنبو کراس کے قریب پیش آیا، جہاں مسلح دہشتگردوں نے مقامی بلوچ شہری کی گاڑی کو زبردستی چھین کر نذرِ آتش کر دیا۔
متاثرہ شہری کا مؤقف: سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں متاثرہ شہری نے بتایا کہ ”یہ گاڑی میرے اور میرے پورے خاندان کا واحد ذریعۂ معاش تھی، جسے دہشتگردوں نے بے دردی سے جلا کر راکھ کر دیا۔“
حکومت سے اپیل: متاثرہ شہری نے حکومتِ پاکستان اور ریاستی اداروں سے فوری انصاف اور مالی نقصان کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔
فتنہ الہندوستان کا اصل چہرہ: تجزیہ کاروں کا ردِعمل
دفاعی اور سیاسی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں عام شہریوں، مزدوروں اور تاجروں کو نشانہ بنانا اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ ان عناصر کا بلوچستان یا بلوچ عوام کے حقوق سے کوئی تعلق نہیں۔
اہم نقطہ ہائے نظر:
خوف و ہراس کا پھیلاؤ: دہشتگردوں کا واحد مقصد علاقے میں بدامنی اور عدم تحفظ کی فضا قائم رکھنا ہے۔
حقوق کے نام پر استحصال: بلوچوں کے حقوق کا نعرہ لگانے والے خود بے گناہ بلوچوں کے روزگار اور زندگیوں کے دشمن بن چکے ہیں۔
قومی و مذہبی تعلق سے آرائی: فتنہ الہندوستان کی کارروائیاں ثابت کرتی ہیں کہ ان عناصر کا کسی مذہب، اخلاقیات یا قومیت سے تعلق نہیں ہے۔