افغان طالبان دہشتگردی روکنے میں ناکام، امریکی محکمہ خارجہ کا دوٹوک موقف
واشنگٹن / کابل — امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان regime دوحہ معاہدے کے تحت کیے گئے انسدادِ دہشت گردی کے تمام وعدے پورے کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے۔
وائس آف امریکہ کو موصول ہونے والی ایک آفیشل ای میل میں امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ مختلف انتہا پسند گروہ افغان سرزمین کو محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں، جس سے علاقائی امن و استحکام شدید متاثر ہو رہا ہے۔
عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سنگین تشویش
امریکی موقف ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب روس اور اقوام متحدہ کی جانب سے بھی افغانستان میں موجود کالعدم تنظیموں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر شدید خطرے کی گھنٹی بجائی گئی ہے۔
سیکیورٹی صورتحال سے جڑے اہم نکات درج ذیل ہیں:
داعش کا خطرہ: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے مطابق داعش خراسان افغانستان کو بنیادی بیس بنا کر وسطی ایشیا تک اپنے اثر و رسوخ کو پھیلانے کی کوشش کر رہی ہے۔
جنگجوؤں کی بڑی تعداد: 19ویں انسدادِ دہشت گردی اجلاس کے دوران روسی سفارتکار پیوٹر ایلیچیف نے انکشاف کیا کہ اس وقت افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں کے تقریباً 23 ہزار جنگجو فعال ہیں۔
ٹی ٹی پی کو سازگار ماحول: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 4 فروری 2026 کی رپورٹ کے مطابق، تحریک طالبان پاکستان (فتنہ الخوارج) کے دہشت گرد افغان سرزمین پر نہ صرف موجود ہیں بلکہ انہیں وہاں مکمل سازگار ماحول میسر ہے۔
دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی اس ناکامی نے خطے میں تشویشناک حد تک تشدد کو ہوا دی ہے۔ بین الاقوامی برادری کے مطابق طالبان کا دوحہ معاہدے میں عالمی امن کی ضمانت دینا صرف ایک دھوکہ ثابت ہوا ہے، جبکہ عملاً افغانستان خطے کے لیے ایک بار پھر خطرہ بنتا جا رہا ہے۔