بپھرے نونہال سے مکالمہ

Jul 29, 2026|آصف محمود

فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ دیکھا تو ایک نہایت عزیز دوست کا فون تھا۔ سلام دعا کے تکلف میں پڑے بغیر انہوں نے آتشیں لہجے میں سوال داغ دیا: آصف صاحب! کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ آپ اس پر خاموش کیوں ہیں؟"

میں نے سمجھا شاید وہ آزاد کشمیر کے انتخابات کی بات کر رہے ہیں۔ عرض کیا، الیکشن ہوئے ہیں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ سیاسی فیصلے اب سڑکوں کے بجائے ایوانوں میں ہوں گے۔

انہوں نے فوراً بات کاٹ دی۔ میں الیکشن کی بات نہیں کر رہا۔ میں ان لاشوں کی بات کر رہا ہوں جو کشمیر میں گری ہیں۔ ہر طرف شور مچا ہوا ہے اور آپ خاموش ہیں۔

میں نے جواب دیا، اگر واقعی ایسا ہوا ہے تو یقیناً افسوسناک ہے اور اس کی مذمت ہونی چاہیے۔

میری بات مکمل بھی نہ ہونے پائی تھی کہ وہ برہم ہو گئے۔ "یہ 'اگر' کیوں؟ لاشیں گری ہیں اور آپ 'اگر' کہہ رہے ہیں۔ کوئی بھاری لفافہ تو نہیں لے لیا ؟

دیکھیے میں تو یہ کہہ رہا ہوں کہ اگر یہ خبر درست ہے تو یہ غلط ہوا ہے۔


آپ کو شرم نہیں آتی، آپ کا ضمیر مر چکا ہے ۔ آپ اب بھی اگر مگر کا لفظ استعمال کر رہے ہیں۔ کیا آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں ۔ اندھے ہو گئے ہیں آپ سب۔


محسوس ہونے لگا کہ یہ صاحب عزت اور شرافت کی زبان سمجھنے سے یکسر قاصر ہیں ۔ صبح کا وقت تھا میں انہیں اس وقت کسی اچھے طبیب سے رجوع کرنے کا مشورہ بھی نہیں دے سکتا تھا ۔ اس لیےابتدائی طبی امداد کے اصول کے تحت ان سے گذارش کی کہ : اگر اور مگر کا سہارا اس لیے لے رہا ہوں کہ یہاں کچھ ایسے جھوٹے بددیانت لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے یہ کہا تھا کہ چھبیس نومبر کو ڈی چوک پر سیدھی گولیاں ماری گئیں اور ہمارے ساٹھ لوگ مارے گئے، پھر کہا ہمارے اسی لوگ مارے گئے، پھر کہا ہمارے سینکڑوں لوگ مارے گئے۔ کچھ بے حیا، بے شرموہ بھی تھے جنہوں نے اے آئی سے بنی ہوئی تصویریں شیئر کر دیں جن میں ڈی چوک لہو میں ڈوبا ہوا پڑا تھا۔ خبیث وہ بھی تھے جنہوں نے ڈی چوک کے اوپر مُنڈلاتے گدھوں کی تصاویر شیئر کر کے کہا کہ یہ یہاں پر پڑی لاشوں کو نوچنے آئے ہیں۔ تو آپ نے کیا آج تک ڈی چوک میں مارے جانے والے اپنے ان سینکڑوں لوگوں کے لواحقین میں سے کسی کو میڈیا کے سامنے پیش کیا کہ ہاں ہمارے قریبی عزیز مارے گئے؟ آپ تو جھوٹ اس بے حیائی سے بولتے ہیں کہ بے حیائی بھی چلاتی ہیں کہ میرا منہ کالا کر دیا۔ اس لیے اگر کا لفظ استعمال کیا ہے کہ اگر آپ ڈی چوک میں اس بے حیائی سے جھوٹ بول سکتے ہیں تو کشمیر تو کافی دور ہے۔ وہاں تو آپ جھوٹ کا تاج محل بنا سکتے ہیں۔ جھوٹ بولنے میں آپ کی مہارت اتنی غیر معمولی ہے کہ آپ چمکتے دن کو دن کہیں تو اس کی بھی پہلے تسلی کر لینی ہے کہ یہ اقعی دن ہی ہے یا آپ کے روشن چہرے کا نور پھیلا ہوا ہے۔ یہ تو آپ کی میانہ روی ہے کہ آپ صرف چھ لاشیں کہہ رہے ہیں، آپ چھ ہزار لاشیں بھی کہہ سکتے ہیں۔


ابتدائی طبی امداد نے فوری اثر دکھایا اور اب وہ صاحب انسانوں کے اسلوب میں گفتگو کرنے لگ گئے ۔ لہجہ بھی تھوڑا معقول ہو گیا۔ کہنے لگے: یعنی آپ مذمت نہیں کرتے؟


 میں تو کہہ رہا ہوں کہ اگر ایسا ہوا ہے تو نہیں ہونا چاہیے، وہ قابل مذمت ہے۔ اور اس کے باوجود کہہ رہا ہوں کہ اس تحریک کے بارے میں میری رہی رائے ہے کہ یہ فتنہ گری ہے اور یہ ہائی جیک ہو چکی ہےا ور اس کے اہداف وہ نہیں ہیں جو بیان کیے جا رہے ہیں۔ 


یعنی آپ اس درجے میں بد گمان ہیں۔


جی بالکل میں تو اس درجے میں بھی بد گمان ہوں کہ چونکہ کامیابی سے الیکشن ہو گیا ہے تو اس تحریک کے ذریعے جو لوگ ریاست کو بلیک میل کرنا چاہتے تھے ان کی ہنڈیا چوراہے میں ٹوٹ چکی ہےا س لیے فرسٹریشن میں کوئی بھی جھوٹ گھڑا جا سکتا ہے ۔ 


 کیا آپ کو لگتا ہے کہ ڈی چوک والا واقعہ جھوٹا تھا؟

مجھے سے کیوں پوچھتے ہیں ۔ علی امین گنڈا پور سے پوچھیں جا کر جس کی ویڈیو دستیاب ہے کہ گولیاں اوپر ہوا میںں چلائی گئیں سیدھی نہیں چلیں ۔ سیدھی چلتیں تو تو سینکڑوں مرتے۔ پھر بھی اگر آپ کو لگتا ہے آپ کے اعدادو شمار سچے تھے تو آپ ان سینکڑوں مقتولین کے ورثا کو پیش کر دیں یا ان سیکڑوں مقتولین کے نام ہی پیش کر دیں۔


 اب وہ صاحب غصے میں بپھر گئے، آپ بالکل پڈواریوں والی بات کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی فون بند ہو گیا ۔     جان چھوٹ گئی ، میں نے اللہ کا شکرر ادا کیا کہ سستے میں چھوٹ گئی ۔