ستمبر 1965 کی جنگ کا 15واں روز: سیالکوٹ میں بھارتی حملہ پسپا، مختلف محاذوں پر 22 ٹینک اور 51 گاڑیاں تباہ
برستمبر 1965 کی پاک بھارت جنگ کے 15ویں روز افواجِ پاکستان نے شاندار دفاعی اور جارحانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سیالکوٹ سیکٹر میں دشمن کا ایک اور بڑا حملہ پسپا کر دیا۔ مختلف محاذوں پر پاک فوج کی سخت مزاحمت اور فضائیہ کے تابڑ توڑ حملوں کے باعث بھارتی فوج بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانے کے بعد پسپائی پر مجبور ہو گئی۔
زمینی محاذ پر پاک فوج کی کامیابیاں
عسکری تاریخ کے مطابق بھارتی فوج کی 1 کور نے بدیانہ، چونڈہ اور ظفروال کی پوزیشنز پر قبضے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم پاک فوج کی جانب سے شدید مزاحمت پر بھارتی کمانڈ کو اپنا منصوبہ تبدیل کرنا پڑا، جس میں اسے ایک بار پھر ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ پسرور میں ہسری نالے پر پاکستانی توپ خانے کی زبردست فائرنگ سے بھارت کی 16 کیولری کے 4 ٹینک تباہ ہو گئے۔
گدرو سیکٹر میں پاک فوج نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے ایک بھارتی چوکی پر قبضہ کر لیا، جہاں سے دشمن اپنے تمام ہتھیار اور عسکری آلات چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ دوسری جانب راجوڑی سیکٹر میں مجاہدین کے ایک بڑے حملے میں 21 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔
مجموعی طور پر سیالکوٹ، جموں، واہگہ، اٹاری اور گدرو سیکٹرز میں ہونے والی جھڑپوں میں بھارت کے 22 ٹینک، 51 گاڑیاں اور متعدد گن پوزیشنز تباہ کر دی گئیں۔
پاک فضائیہ اور بحریہ کی کارروائیاں
پاک فضائیہ کے 8 سیبر (Sabre) لڑاکا طیاروں نے ہسری نالے کے قریب بھارتی پوزیشنز پر زبردست گولہ باری کی، جس کے باعث بھارتی فوج وہاں سے بھی پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی۔ فضائیہ کے شاہینوں نے سری نگر، آدم پور، جودھ پور، ہلواڑہ اور پٹھان کوٹ میں قائم اہم بھارتی اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور دشمن کے ایک کینبرا (Canberra) بمبار طیارے کو بھی مار گرایا۔
سمندری محاذ پر پاک بحریہ کی غازی آبدوز معمول کی مرمت کے بعد ایک بار پھر سمندر میں کارروائیوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہو گئی۔
عوام اور سابق فوجیوں کا بے مثال جذبہ
جنگ کے دوران پوری قوم کا مورال انتہائی بلند رہا۔ راولپنڈی میں خواتین نے اسپتالوں میں زیرِ علاج زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات پیش کر دیں، جبکہ بڑی تعداد میں ریٹائرڈ اور سابق فوجیوں نے بھی مادرِ وطن کے دفاع کے لیے افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ لڑنے کا اعلان کیا۔