بلوچستان ، دہشت گردی اور سرداری نظام
جنرل احمد شریف صاحب کی پریس کانفرنس سن رہا ہوں، سچ کہوں تو بلوچستان کے سرداری نظام کے آزار پر پہلی بار کوئی اس طرح کھل کر بولا ہے.
اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان کے مسائل کے حل کی طرف خلوص نیت سے بڑھنا ہے تو پھر اس نو آبادیاتی سرداری نظام کا خاتمہ ضروری ہے جو انگریز نے ظالمانہ اور جابرانہ ہتھکنڈے کے طور پر بلوچستان میں متعارف کرایا جس کی وجہ سے عام آدمی آج تک سماجی ، تہذیبی اور معاشی طور پر ان دیکھے شکنجوں میں کساہے۔
معاملات اجتماعی میں بڑی حد تک ان سرداروں اور نوابوں ہی کی رائے پر چلنے پر مجبور ہے۔ سرداروں میں سے کوئی ایک ریاست سے ناراض ہو جاتا ہے تو سارا قبیلہ ہی بگڑ جاتا ہے ۔
چنانچہ حکومتوں نے بھی آسان راستے کا انتخاب کرتے ہوئے سرداروں اور نوابوں کی خوشنودی ہی کو ’ گڈ گورننس‘ کاشارٹ کٹ سمجھا اور عام آدمی یعنی شہری کو نظر انداز کر دیا ۔ شہریت کے اس بنیادی اصول سے انحراف کے منطقی نتائج اب ہمارے سامنے ہیں۔
بلوچستان کے سرداری نظام کی جڑیں بھی بلوچستان کی اپنی تہذیب میں نہیں ہیں۔ اس نظام کی بنیاد انگریز نے 1876 میں رکھی۔بلوچستان میں انگریزوں کے خلاف جب مزاحمت بڑھی تو انگریز نے وہاں یہ سرداری نظام متعارف کرایا۔ اپنے وفاداروں کو منصب دیے۔ لیویز کی شکل میں انہیں مسلح جتھے دیے تا کہ وہ باغیوں کو کچل سکیں۔ان سرداروں وڈیروں کے بچوں کو ایچی سن سے لے کر ڈیرہ دون ملٹری اکیڈمی تک تعلیم دی لیکن عام آدمی کو تعلیم سے دور رکھا۔
نو آبادیاتی بندو بست نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ساتھ ’مذہبی ٹچ‘ بھی دیا گیا کہ سردار تو اللہ کا ولی ہوتا ہے۔اس کی اطاعت لازم ہے۔ سرداروں کی جھوٹی کرامات مشہور کرائی گئیں۔اس نظام کی سفاکیت کا اندازہ لگانا ہو تو ڈاکٹر عطا بخش مری کے یہ الفاظ کافی ہیں کہ ’’سردار لا شریک ہوتا ہے‘‘۔
انگریز نے اس نظام کو یوں مستحکم کیا کہ عام آدمی کے قتل کا خوں بہا دو ہزار روپے رکھا لیکن اپنے ان وڈیروں نوابوں کے قتل کا خوں بہا آٹھ ہزار روپے رکھا۔ یعنی نو آبادیاتی نظام کے یہ محافظ عام انسان سے چار گنا زیادہ قیمتی تھے۔
غلامی کو یوں سائنسی انداز سے مسلط کیا گیا کہ آج ہم اس نظام پر بات کریں تو ہمارے بلوچ ادیب دوست بھی’اسٹیبلشمنٹ کے سردار‘ کی مذمت کر کے ’اپنے سرداروں‘ کے حق میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انہیں شاید یاد ہی نہیں کہ یہ ’اپنے سردار‘ بھی انگریز ہی کے مسلط کردہ تھے اور 1929 میں یوسف عزیز مگسی نے ان نوآبادیاتی سرداروں کے خلاف ایک خفیہ مزاحمتی تحریک شروع کی جس کا نام ’انجمن اتحاد بلوچ و بلوچستان‘ تھا۔
انگریز چلا گیا تو پیچھے اپنی افسر شاہی کے ساتھ ساتھ اپنے یہ جاگیردار، نواب، سردار اور وڈیرے بھی چھوڑ گیا۔
بد قسمتی یہ ہوئی کہ حکومتوں نے ا سی نو آبادیاتی فارمولے کو جاری رکھا۔قیام پاکستان کے بعد زرعی اصلاحات کی بات ہوئی تو اہل مذہب ان وڈیروں اور جاگیرداروں کے رضاکار محافظ بن کر سامنے آ گئے اور کہا جانے لگا کہ یہ اسلام کے حق ملکیت کی خلاف ورزی ہے کہ ریاست کسی کی زمین لے لے۔ یہ اہل مذہب کی سادگی تھی یا کیا تھا لیکن یہ بہر حال طے ہے کہ ان کی دلیل درست نہ تھی۔ غداری کے بدلے انگریز سے ہتھیائی گئی زمینیں اسلام کے حق ملکیت کے دائرہ کار میں آتی ہی نہیں تھیں۔ یہ مغلوں کے اقتدار میں ریاست کی زمینیں تھیں اور ملکیت اللہ کی تھی۔ انگریز نے یہ امانت مال غنیمت سمجھکر وفاداروں میں بانٹ دی۔ پاکستانی حکومت کا یہ حق تھا یہ امانت واپس لیتی اور غریبوں میں تقسیم کرتی۔لیکن یہ نہ ہو سکا۔
افسر شاہی کی طرح یہ جاگیرداری اور سرداری نظام بھی برطانوی نو آبادیاتی نظام کا ایک جابرانہ ہتھکنڈہ تھا جو اس معاشرے پر مسلط کیا گیا۔مقصد ایک ہی تھا۔ ان کے ذریعے جبر اور خوف کا ایک ایسا ماحول بنا دیا جائے کہ کوئی آدمی سر نہ اٹھا سکے۔
اس واردات کا سیاق و سباق بھی، ایسٹ انڈیا کمپنی کے سابق چیئر مین سر آرچی بیلڈ گیلوے نے اپنی کتاب: Observations on the law and the constitution and present government of India میں بیان کر دیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ انگریزوں کے آنے سے پہلے یہاں مغلوں نے جو نظام بنایا ہوا تھا اس نظام میں مغل بادشاہ مقامی سطح پر کچھ لوگوں کو انتظامی ذمہ داریاں سونپتے اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے انہیں عارضی طور پر زمینیں اور جاگیریں عطا کرتے تا کہ ان زمینوں کی آمدن سے وہ اپنے اخراجات ادا کر سکیں۔ ان کے مرنے پر یہ جاگیریں ان کی اولاد کو منتقل نہیں ہوتی تھیں بلکہ یہ مغل بادشاہ کے انتظام میں واپس چلی جاتی تھیں اور پھر وہ جس کو یہ منصب عطا کرتا تھا زمینیں اور جاگیریں بھی اس شخص کے حوالے کر دی جاتی تھیں۔لیکن انگریز نے جب یہاں قبضہ کیا تو اس نے یہ زمینیں اپنے وفاداروں میں نسل در نسل ، مستقل بنیادوں پربانٹ دیں کہ باپ مر گیا تو جاگیر بیٹے کو مل گئی۔چنانچہ یہ طبقہ آج تک پاکستان میں ان ہی جاگیروں کی بنیاد پر مسلط ہے۔
اب گویا یہ مال غنیمت تھاجو انگریز نے اپنے وفاداروں میں تقسیم کر دیا۔ کسی کو گھوڑے پال سکیم کے تحت جاگیر دے دی کسی کو اس کی دیگر ملت فروش خدمات کے بدلے میں جاگیر عطا فرما دی۔ انگریز نے بنگال سے بلوچستان تک گویا اپنے وفاداروں کا ایک لشکر منظم کیا اور ایک زرعی معاشرے میں ان وفاداروں (غداروں) کو مسلط کر دیا۔ کچھ وہ بھی ہوں گے جن کے پاس پہلے سے ہی اپنی زمینیں تھیں لیکن اکثر جاگیروں کی کہانی یہی تھی کہ یہ ملت فروشی اور غداری کے انعام میں بانٹی گئیں۔
چنانچہ جب جنرل فورٹ سنڈیمن نے سرداروں کو اپنی بگھی کھینچنے کا حکم دیا تو وفاداری کے اظہار کے طور پر یہ سردار گھوڑوں کی جگہ اس بگھی میں جت گئے ۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ریاست کامخاطب نواب، وڈیرے اور سردار نہیں ہوتے۔ ریاست کا مخاطب اس کے شہری ہوتے ہیں۔ یہاں حکومتوں سے بنیادی غلطی ہوئی ہے۔ جب جب شورش برپا ہوئی ، حکومتوں نے چند سرداروں نوابوں کے ناز نخرے اٹھا کر انہیں رام کر لیا اور سمجھا کہ مسئلہ حل ہو گیا۔ حکومتوں نے بلوچستان میں اپنے عام شہریوں کو اپنا مخاطب بنایا ہی نہیں۔اس کی توجہ کا مرکز یہی سردار اور نواب رہے ۔ یہ ایک سنگین غفلت تھی۔ اس کی وجہ سے عام شہری اور ریاست میں ایک خلا پیدا ہوا اور اس خلا میں اب مسائل ناسور بنتے جا رہے ہیں۔ ضروری ہے کہ اس نو آبادیاتی بندوبست کا خاتمہ کیا جائے۔ خاتمہ ممکن نہیں تو اپنی ترجیح اور اپنی سمت کو درست کیا جائے۔ریاست کو اپنے عوام کے پاس جانا ہو گا اور ان کی بات سننا ہو گی۔ ان کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ اور یہ کام بیچ میں کسی نواب کسی سردار کی بیساکھی کے بغیر براہ راست کرناہو گا۔ ریاست کے لیے لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں تک براہ راست پہنچے۔ اور دہشت گردی اور اس کی سہولت کاری کی ہر شکل کو کچل دے.