بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کا خاتمہ؟

Nov 7, 2026|ویب ڈیسک

عابد میر صاحب کے شکریے کے ساتھ ان کی وال سے کاپی کی گئی 


بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) کا خاتمہ؟


گزشتہ روز اس بابت جاری ہونے والے ایک سرکاری نوٹی فکیشن نے تعلیم سے وابستہ احباب اور بالخصوص اس ادارے سے مستفید ہونے والے طلبہ و والدین کے مابین ایک سراسیمگی سے پیدا کر دی ہے، جس کے مطابق اس ادارے کو فوری طور پر تحلیل کر کے وزارتِ خزانہ کے زیرانتظام کیا جا رہا ہے۔ جلد ہی اس کا دفتر فنانس ڈپارٹمنٹ کے ساتھ قائم کر دیا جائے گا۔ صرف دس سے پندرہ لوگوں کا اسٹاف آئندہ کے امور دیکھے گا۔ 


اس بابت جو معلومات حاصل ہو سکی ہیں، پہلے میں آپ سے وہ شیئر کرتا ہوں، اس کے بعد اس پر اپنی رائے دوں گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ (BEEF) صوبے کے مستحق اور قابل طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے قائم کیا گیا ایک اہم ادارہ ہے۔


قیام اور بانی حکومت


قیام: بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کا قیام 14-2013ء میں عمل میں لایا گیا تھا۔


بانی ادارہ: اس کا قیام پنجاب ایجوکیشنل انڈومنٹ فنڈ (PEEF) کے ماڈل کی طرز پر حکومتِ بلوچستان کے ذریعے عمل میں آیا۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد قائم ہونے والی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی مخلوط حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی اور اصلاحات کے تحت اس انڈومنٹ فنڈ کو عملی شکل دی، جس کے لیے ابتدائی طور پر اربوں روپے کا وقف فنڈ (Endowment Fund) مختص کیا گیا تاکہ اس کے منافع سے اسکالرشپس جاری کی جا سکیں۔ اسے باقاعدہ کمپنیز ایکٹ (سیکشن 42) کے تحت نان پرافٹ پبلک سیکٹر کمپنی کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا۔


بنیادی مقاصد


تعلیمی مساوات: دور دراز اور پسماندہ اضلاع کے باصلاحیت مگر مالی مشکلات کے شکار طلبہ کو مالی معاونت فراہم کرنا۔


انسانی وسائل کی ترقی (Human Capital): صوبے کے اندر اعلیٰ اور پیشہ ورانہ تعلیم کے تناسب کو بڑھانا اور ڈراپ آؤٹ ریٹ کم کرنا۔


قومی اور بین الاقوامی معیار کے اداروں تک رسائی: بلوچستان کے طلبا کے لیے ملک کی صفِ اول کی جامعات (لمز، آئی بی اے کراچی، نسٹ، آغا خان، وغیرہ) اور غیر ملکی تعلیمی اداروں میں داخلوں کے اخراجات برداشت کرنا۔


کوٹہ سسٹم: عام میرٹ کے علاوہ خواتین، اقلیتوں، خصوصی افراد (معذور طلبہ)، اور دہشت گردی کے متاثرین کے بچوں کے لیے مخصوص کوٹے کا نفاذ۔


تاریخی کارکردگی اور خدمات


اپنے قیام سے لے کر اب تک بیف نے صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لیے وسیع پیمانے پر کام کیا۔


ہزاروں طلبہ کو وظائف: میٹرک اور انٹرمیڈیٹ سے لے کر بی ایس، ایم ایس/ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر 80,000 سے زائد طلبا و طالبات کو اندرون اور بیرونِ ملک وظائف دیے گئے۔


اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ساتھ شراکت داری: ملک بھر کی درجنوں بڑی پبلک و پرائیویٹ یونیورسٹیز کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دست خط کیے گئے، جن کے تحت منتخب طلبہ کے تعلیمی اخراجات اور رہائشی وظائف براہِ راست بیف ادا کرتا رہا۔


شفافیت کی کوشش: بینکنگ نظام اور آن لائن پورٹل کے ذریعے اسکالرشپس کی جانچ پڑتال اور براہِ راست طلبہ کے اکاؤنٹس میں ترسیل۔


موجودہ اسٹیٹس اور مستقبل


انتظامی اخراجات اور تنظیمِ نو: صوبائی حکومت کی جانب سے ادارے میں بڑھتے ہوئے غیرضروری انتظامی اخراجات، بھاری تن خواہوں اور بیوروکریٹک اخراجات پر سوالات اٹھائے گئے۔ حکومت کا مؤقف رہا کہ انڈومنٹ کے منافع کا زیادہ تر حصہ انتظامی اخراجات کے بجائے براہِ راست طلبہ کے وظائف پر خرچ ہونا چاہیے۔


تحلیل (Dissolution) کا فیصلہ: صوبائی کابینہ اور حکومت کی جانب سے موجودہ خودمختار کمپنی ماڈل کو تحلیل کرنے کا باضابطہ نوٹی فکیشن جاری کیا گیا اور ادارے کے مالی و انتظامی امور کی جانچ اور منتقلی کے لیے سینیئر حکام پر مشتمل 4 رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔


مستقبل کی حکمتِ عملی


محکمہ تعلیم میں انضمام: حکومت کا منصوبہ اس عمل کو بند کرنے کے بجائے اس کی موجودہ مہنگی کمپنی ساخت کو ختم کر کے تعلیمی وظائف کے پورے نظام کو براہِ راست ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ یا فنانس ڈپارٹمنٹ کی ایک باقاعدہ ونگ/ڈائریکٹوریٹ کے سپرد کرنا ہے تاکہ انتظامی لاگت صفر کی جا سکے۔


طلبہ کے خدشات: فیصلے کے بعد طلبہ تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ کہیں اس سے زیرِتعلیم طلبہ کے جاری وظائف متاثر نہ ہوں یا عمل سست روی کا شکار نہ ہو جائے۔


جاری اسکالرشپس کا تحفظ: حکومت کے مطابق پہلے سے منظور شدہ اور زیرِ تعلیم طلبہ کے وظائف متاثر نہیں ہوں گے اور ان کی فنڈنگ جاری رکھی جائے گی، تاہم آئندہ اسکالرشپ پالیسی کے طریقہ کار اور نگرانی کے نظام کی مکمل نئی ہیئت نو تشکیل شدہ کمیٹی کی سفارشات کے بعد واضح ہو گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ان تفصیلات سے دو باتیں تو واضح ہیں؛ ایک یہ کہ ادارہ ختم ہوا ہے، سکالرشپس نہیں۔ دوم یہ کہ کہ مستقبل میں بھی سکالرشپس جاری رہیں گی، البتہ ان کا میکنزم تبدیل ہو سکتا ہے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ اس ادارے سے بلوچستان کے ہزاروں مستحق طلبہ مستفید ہوئے ہیں۔ یہ ادارہ ڈاکٹر مالک کی حکومت کے چند بہترین عوامی کاموں میں سے ایک رہا ہے۔ موجودہ حکومت میں بھی اس میں کئی نئے پروگرام شامل کیے گئے۔ جیسے کہ سول شہدا کے بچوں کی فری تعلیم اور خصوصاً ٹرانس جیندڑز کے لیے تعلیمی وظائف نیز اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرونِ ممالک اسکالرشپس کے پروگرامز وغیرہ۔


لیکن اس پروگرام میں ہونے والی بے ضابطگیاں بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں۔ جو صرف مالی معاملات تک محدود نہیں، اس میں اخلاقی کرپشن بھی شامل ہے۔ غریب طلبہ و طالبات کے مالی استحصال سمیت ہراسمنٹ کی کئی کہانیاں گزشتہ برسوں میں زبان زدِعام رہی ہیں۔ اصولاً تو ان سب کا آڈٹ ہونا چاہیے اور ملوث کرداروں کے خلاف جائز کارروائی ہو۔


نیز اس کے بیوروکریٹک اخراجات تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ رکھے ہیں۔ سو کے قریب اس کا اسٹاف تھا۔ بڑے عہدوں پر مختلف شعبوں سے لوگ ڈیپوٹیشن پہ تعنیات ہوتے تھے۔ مجھے بھی بارہا احباب سے یہ مشورہ ملا کہ ایسے اداروں میں ڈیپوٹیشن کی کوشش کرو، یہاں تنخواہیں اور مراعات اچھی ہوتی ہیں۔ 


اس کی ایک اور مثال بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ہے۔ وہ بھی مالی اور اخلاقی کرپشن کا ایک گڑھ ہے۔ اس لیے ہمارے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے کئی لوگ بھی وہاں جانے کو اتاولے ہو رہے ہوتے ہیں۔ مجھے ایسے مراعات یافتہ اداروں سے کبھی رغبت نہیں رہی۔ میں ان کی بے جا مراعات کا ہمیشہ ناقد رہا ہوں۔ کیا عجب ہے کہ غربت ختم کرنے والے پروگرام کے عہدے داروں لاکھوں کی تنخواہیں لیتے ہیں، ٹھنڈے کمروں میں بیٹھتے اور مفت کے پیٹرول پر بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں۔ یہ نہ اس غربت کا احساس کر سکتے ہیں، نہ اسے ختم کرنے کا سوچ سکتے ہیں، جس کی بنا پر وہ ان مراعات سے لطف اندوز ہو رہے ہوتے ہیں۔


یہی معاملیہ بیف کا رہا ہے۔ طلبہ کو چند ہزار کی سکالرشپ مہیا کرنے والے ادارے کے اپنے ماہانہ اخراجات کروڑوں میں ہیں۔ مبینہ طور پر جتنی اسکالرشپس دی جا رہی ہیں، لگ بھگ اتنی ہی رقم کمپنی کے اخراجات پر خرچ ہو رہی ہے۔ اس کی مراعات کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اس کے اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی کے لیے سی ایس پی حضرات میں مقابلے کی دوڑ لگی رہی رہتی ہے۔ یہ اپنے اچھے بھلے عہدے چھوڑ کر وہاں تعینات ہونے کو بیقرار ہوتے ہیں۔ 


اس لیے اس کی تحلیل سے بہ ظاہر اب تک مجھے کوئی عوامی نقصان نظر نہیں آ رہا۔ بشرطیکہ مجوزہ پروگرام کے مطابق طلبہ کی جاری اور آئندہ کی اسکالرشپس متاثر نہ ہوں۔ فنانس کی بجائے اسے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے زیرانتظام لانا زیادہ بہتر ہو گا۔ جیسا کہ ڈائریکٹریٹ آف ایجوکیشن آل ریڈی اس طرح کا ایک سکالرشپ پروگرام چلا رہا ہے۔ اسے اس کے ساتھ منسلک کیا جا سکتا ہے۔ بے شک اس کا یونٹ الگ کر دیا جائے۔ بل کہ بہتر ہو کا اسکالرشپس کا یونٹ ہی الگ ہو، جس کا کام صرف ان اسکالرشپس کو دیکھنا ہو۔ البتہ ان پر چیک اینڈ بلینس کا نظام انتہائی ضروری ہے؛ مالی لحاظ سے بھی اور اخلاقی لحاظ سے بھی۔


سو، میرا خیال ہے فی الوقت اس پر زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ مستقبل میں البتہ اس پروگرام کی بہتری اور شفافیت کے لیے اداروں پر دباؤ رکھنا ضروری ہے۔ اس فیصلے کو عوام کے حق میں نقصان دہ نہیں، مفید ہی ثابت ہونا چاہیے۔