افغانستان میں طالبان رجیم کیخلاف مسلح مزاحمت تیز، ڈھائی ماہ میں مخالف گروہوں کے 73 حملوں کا دعویٰ
افغانستان میں طالبان انتظامیہ کے خلاف مسلح مزاحمتی کارروائیوں میں نمایاں شدت آ گئی ہے، جس نے کابل حکومت کے ملک پر مکمل سیکیورٹی کنٹرول کے دعوؤں کو چیلنج کر دیا ہے۔ رواں سال کے وسط سے مختلف محاذوں پر ہونے والے متواتر حملوں کے باعث طالبان رجیم شدید سیکیورٹی دباؤ کی لپیٹ میں ہے۔
افغان اخبار ’ہشتِ صبح‘ کی رپورٹ کے مطابق جولائی سے یکم ستمبر کے دوران طالبان مخالف تین بڑے مسلح گروہوں—نیشنل ریزسٹنس فرنٹ، افغانستان فریڈم فرنٹ اور یونائیٹڈ فرنٹ—نے مجموعی طور پر 73 کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان مرکزی دھڑوں کے علاوہ ہوم لینڈ سولجرز فرنٹ، نیشنل موبلائزیشن فرنٹ، فریڈم موومنٹ اور فریڈم اینڈ جسٹس موومنٹ نے بھی مختلف علاقوں میں طالبان فورسز کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔
افغان جریدے کے مطابق مسلح گروہ کارروائیوں کے ذریعے طالبان پر دباؤ بڑھانے، عالمی رائے عامہ کو متاثر کرنے، اپنی سپلائی لائن بہتر بنانے اور علاقائی و بین الاقوامی رقابتوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان کی کمزور ہوتی عوامی تائید، گہرے ہوتے اندرونی اختلافات اور بڑھتی عوامی شکایات نے مزاحمتی محاذوں کے پھیلاؤ کو تقویت دی ہے۔