آر ایس ایس سربراہ کے دورۂ برطانیہ کے خلاف لندن میں شدید احتجاج، پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ

آر ایس ایس سربراہ کے دورۂ برطانیہ کے خلاف لندن میں شدید احتجاج، پارلیمنٹ کے باہر مظاہرہ

Sep 10, 2026|ویب ڈیسک

ہندو قوم پرست تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت کے دورۂ برطانیہ کے خلاف لندن میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور شہریوں نے برطانوی پارلیمنٹ کے باہر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

برطانوی اور بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین نے برطانوی پارلیمنٹ کے سامنے جمع ہو کر آر ایس ایس کے مبینہ انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف نعرے بازی کی اور بھارت میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ اقلیت مخالف بیانیے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔

بھارتی جریدے ’اسکرول ان‘ اور برطانوی اخبار ’دی انڈیپینڈنٹ‘ کی رپورٹس کے مطابق شرکا نے ہندو قوم پرستی کے فروغ پر برطانوی حکومت کی مبینہ خاموشی پر بھی کڑی تنقید کی۔ مظاہرین نے 2002ء کے گجرات فسادات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، اور فاشسٹ نظریات کے خلاف عالمی برادری کو متحد ہونا ہوگا۔

واضح رہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی پالیسیوں کو اس سے قبل بھی مغربی ممالک میں تنقید کا سامنا رہا ہے۔ اس سے قبل بین الاقوامی مذہبی آزادی سے متعلق امریکی کمیشن نے آر ایس ایس قیادت کے ویزا کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرنے کی سفارش کی تھی، جبکہ کینیڈا کے بعض ارکانِ پارلیمنٹ نے بھی ہندو انتہا پسند نظریات کے پھیلاؤ کو اپنے ملک میں سماجی امن کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی سطح پر ہونے والے ان مظاہروں اور ردِعمل سے بھارت کے اندر اقلیتوں سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر بین الاقوامی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔