ملک میں نئے صوبوں کا قیام ناگزیر: 75 فیصد سے زائد عوام کی حمایت، ملک گیر سروے جاری

ملک میں نئے صوبوں کا قیام ناگزیر: 75 فیصد سے زائد عوام کی حمایت، ملک گیر سروے جاری

Sep 11, 2026|ویب ڈیسک


پاکستان میں بہتر طرزِ حکمرانی اور انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبوں کے قیام کی عوامی سطح پر بھرپور حمایت سامنے آئی ہے۔ سنو ایف ایم کے ملک گیر سروے کے مطابق 75.52 فیصد پاکستانیوں نے نئے انتظامی یونٹس بنانے کی واضح تائید کی ہے، جبکہ 72.48 فیصد شرکاء نے اسے عوامی مسائل کے حل کی بنیادی کلید قرار دیا ہے۔

سروے میں چاروں صوبوں سے مجموعی طور پر 4 ہزار 18 افراد نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ شرکاء میں پنجاب سے 40.49 فیصد، سندھ سے 35.52 فیصد، خیبرپختونخوا سے 14.09 فیصد اور بلوچستان سے 2 فیصد شہری شامل تھے۔

نئے صوبوں کی مجوزہ تعداد کے حوالے سے 40 فیصد سے زائد شرکاء کا مؤقف تھا کہ حتمی فیصلہ ماہرین کی مشاورت سے کیا جانا چاہیے۔ رائے دہندگان میں سے 26.40 فیصد نے ملک میں 24 نئے صوبے، 21.95 فیصد نے 12 جبکہ 11.45 فیصد نے 6 نئے صوبے بنانے کی رائے دی۔ مجموعی اعداد و شمار کے مطابق عوام میں انتظامی اختیارات کی زیادہ سے زیادہ تقسیم کا رجحان نمایاں رہا۔

تجزیہ کاروں اور ماہرین کے مطابق سروے نتائج اس امر کو واضح کرتے ہیں کہ ملک میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، انتظامی صلاحیت میں بہتری اور پیچیدہ عوامی مسائل سے نمٹنے کے لیے نئے صوبوں کی تشکیل ایک اہم قومی ضرورت کے طور پر ابھری ہے۔