بھارت میں ہندوتوا نظریے کا فروغ اقلیتوں کے حقوق اور سیکولر تشخص کے لیے سنگین خطرہ قرار: رپورٹ
بھارت میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ہندو قوم پرستی پر مبنی نظریے کے باعث اقلیتوں کو شدید دباؤ اور شناخت کے بحران کا سامنا ہے۔
ہندوتوا پر سامنے آنے والی ایک حالیہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، آر ایس ایس کا نظریاتی بیانیہ ایک ایسی مصنوعی اور متعصب مذہبی شناخت کو مسلط کر رہا ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ’اکھنڈ بھارت‘ کے تصور کا بنیادی محور صرف ایک مخصوص طبقے کی بالادستی قائم کرنا ہے، جس کے تحت دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے بنیادی حقوق کو محدود کیا جا رہا ہے۔
معروف مسیحی سیاسی کارکن ڈاکٹر جان دیال نے اس صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوتوا کے بانیوں نے نازی طرز کی ایسی ریاست کا خاکہ پیش کیا تھا جہاں تمام تر ریاستی و سماجی اختیارات صرف ایک ہی گروہ تک محدود ہوں۔ ان کا مؤقف ہے کہ اس نظریے کے نفاذ کے بعد بھارت میں مسلمانوں، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کے لیے گنجائش تیزی سے سکڑتی جا رہی ہے۔
سیاسی و سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کے دور میں ریاستی سطح پر ہندو قوم پرستی کو ملنے والی مبینہ سرپرستی نے بھارت کے سیکولر اور جمہوری تشخص پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جس سے خطے میں مذہبی ہم آہنگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔