افغان تعلیمی نظام طالبان کے شکنجے میں، نئی نسل کی ذہن سازی کا منصوبہ آشکار

افغان تعلیمی نظام طالبان کے شکنجے میں، نئی نسل کی ذہن سازی کا منصوبہ آشکار

Aug 13, 2026|ویب ڈیسک

آسٹریلوی تھنک ٹینک لووی انسٹی ٹیوٹ اور ہمراہ نیٹ ورک کی سنسنی خیز رپورٹ جاری

​کابل / اسلام آباد — افغان طالبان نے ملک کے پورے تعلیمی نظام کو اپنی سخت گیر نظریاتی سوچ اور عسکری مقاصد کے لیے ڈھالنا شروع کر دیا ہے۔ آسٹریلوی تھنک ٹینک "لووی انسٹی ٹیوٹ" اور "ہمراہ نیٹ ورک" کی تازہ ترین رپورٹوں کے مطابق افغان تعلیمی نصاب اب جدید تعلیم کی بجائے کمسن بچوں کی ذہن سازی اور انتہا پسندانہ نظریات کے فروغ کا ذریعہ بن چکا ہے۔

عالمی رپورٹوں کے اہم اور تشویشناک انکشافات

​مدارس کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ: ہمراہ نیٹ ورک کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 5 ہزار سے بڑھ کر 23 ہزار ہو چکی ہے، جہاں 36 لاکھ سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں۔

​عسکری نصاب کی شمولیت: لووی انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ کے مطابق نصابِ تعلیم میں سائنسی و آزادانہ سوچ کی جگہ جہادی نظریات شامل کر کے بچوں میں حکومت سے وفاداری اور مطلق اطاعت کو پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

​خودکش دستوں کی تشہیر: تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ میں خودکش حملہ آور دستوں کی مسلسل پذیرائی کے باعث مذہبی تعلیم اور عسکریت پسندی کے درمیان فرق ختم کیا جا رہا ہے۔

​علاقائی و عالمی سلامتی کو خطرات: رپورٹ کے مطابق القاعدہ سمیت متعدد عسکریت پسند تنظیموں کی موجودگی اور طالبان کا نظریاتی تعلیمی ڈھانچہ خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کے اس بنیادی موقف کی تائید کرتی ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کے خطرات مسلسل برقرار ہیں۔

​"لڑکیوں کی اسکولوں میں ممکنہ واپسی بھی افغان تعلیم کا بدلا ہوا چہرہ نہیں بدل سکے گی، کیونکہ طالبان رجیم نئی نسل کی سوچ اور مستقبل کو پہلے ہی اپنے سانچے میں ڈھال چکی ہے۔" — لووی انسٹی ٹیوٹ

​عالمی ماہرین کا متفقہ طور پر ماننا ہے کہ افغانستان میں تیزی سے پھیلتی ہوئی نظریاتی اور عسکری تربیت نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے عالمی امن کے لیے ایک مستقل اور بڑا چیلنج بن چکی ہے