شجاعت اور فرض شناسی کی بے مثال تصویر: ڈی ایس پی مرید بگٹی بارکھان میں جامِ شہادت نوش کر گئے
بارکھان / کوئٹہ — مادرِ وطن کے تحفظ کی خاطر دفاعِ وطن کی اگلی صفوں میں دادِ شجاعت دینے والے نڈر اور بہادر افسر ڈی ایس پی مرید بگٹی بلوچستان کے ضلع بارکھان کے علاقے رکنی میں ایک آپریشنل ڈیوٹی کے دوران دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔
شہید ڈی ایس پی مرید بگٹی کا تعلق سوئی سے تھا اور وہ ضلع بارکھان میں بطور ڈی ایس پی اپنے فرائض انتہائی جرات اور ایمانداری سے سر انجام دے رہے تھے۔
قربانیوں سے رقم ایک لافانی تاریخ
شہید ڈی ایس پی مرید بگٹی بے مثال شجاعت، فرض شناسی اور قومی غیرت کی ایک لازوال علامت ہیں۔ اس سے قبل بھی ان کے خاندان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جہاں ان کی جعفرآباد میں واقع رہائش گاہ پر حملے میں ان کی دو بیٹیاں بھی شہید ہو چکی تھیں۔
بہادر ڈی ایس پی نے سوگواران میں دو بیوائیں اور 12 بچے چھوڑے ہیں۔
بارکھان پولیس کے حکام کا کہنا تھا: "بارکھان میں امن و امان کے قیام کے لیے سینہ سپر ہونے والے بہادر ڈی ایس پی مرید بگٹی شہید پوری قوم کا فخر ہیں۔ بارکھان پولیس شہید کے مشن کو ہر قیمت پر پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔"
شرپسندوں کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری
واقعے کے فوراً بعد سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پورے علاقے کا محاصرہ کر کے بزدلانہ حملے میں ملوث مسلح عناصر کی گرفتاری کے لیے وسیع پیمانے پر سرچ اور کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا ہے۔
اہم نکات:
عظیم شہادت: ڈی ایس پی مرید بگٹی بارکھان کے علاقے رکنی میں سرچ آپریشن کے دوران شہید ہوئے۔
خاندانی تاریخ: شہید افسر کا تعلق سوئی سے تھا؛ قبل ازیں ان کی 2 بیٹیاں بھی جعفرآباد میں دہشت گردی کے واقعے میں شہید ہوئی تھیں۔
سوگواران: شہید نے پس ماندگان میں 2 بیوائیں اور 12 بچے چھوڑے ہیں۔
پولیس کا پختہ عزم: قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بارکھان پولیس نے شہید کے مشن کو حتمی انجام تک پہنچانے کا اعادہ کیا ہے