بلوچستان: ردالفتنہ 3 کے تحت کارروائی، فتنہ الخوارج کے 9 کارندے مارے گئے
کوئٹہ (نیوز ڈیسک): بلوچستان کے ضلع مستونگ میں سیکیورٹی فورسز نے مؤثر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 9 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، صوبے میں آپریشن 'ردالفتنہ 3' کے تحت شدت پسندوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ کنک وادی کے علاقے میں خارجیوں نے سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش کی، جسے فورسز نے بر وقت اور بھرپور جوابی کارروائی سے ناکام بنا دیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں موقع پر 2 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد ازاں فرار ہونے والے دہشت گردوں کا پیچھا کیا گیا اور مزید 7 خوارج کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ہلاک شدت پسندوں کے قبضے سے 3 موٹرسائیکلوں سمیت بھاری مقدار میں جدید اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کر لیا گیا ہے۔ فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز کا ایک جوان بھی زخمی ہوا، جسے فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بلوچستان سے آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
افواجِ پاکستان اور پاک فضائیہ کے مستعد ایئر ڈیفنس سسٹم نے پاکستانی فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی کو بروقت ناکام بناتے ہوئے افغان طالبان رجیم کے تمام 8 ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، آج صبح افغان طالبان کی جانب سے یہ ڈرونز ملکی فضائی حدود میں داخل کیے گئے، جن کا ہدف ممکنہ طور پر شہری آبادی اور عوامی مقامات تھے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں اور ائیر ڈیفنس نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کارروائی کی اور تمام اہداف کو نشانہ بنایا۔
ذرائع کے مطابق، 4 ڈرونز طورخم بارڈر کے ملحقہ علاقوں جبکہ 4 ڈرونز کوہاٹ سے متصل سرحدی پہاڑی علاقوں میں گرائے گئے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کھلی دراندازی افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گردوں کی کھلم کھلا معاونت اور سرپرستی کا ایک اور واضح ثبوت ہے۔ ذرائع نے مزید یاد دہانی کروائی کہ گزشتہ رات بھی افواج پاکستان نے کرم سیکٹر میں اشتعال انگیز فائرنگ کے جواب میں افغان فورسز کے متعدد مورچوں اور ٹھکانوں کو تباہ کیا تھا، اور ملکی دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔