Latest news
بجٹ 2026.27, ریاست کی ترجیحات کیا ہیں ؟معاشی استحکام یا قرضوں کا گرداب مردان کے قریب پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دو پائلٹ شہید بلوچستان کے مسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ بلوچستان کا سندھ سے اپنے حصے کے پانی کی فراہمی کا مطالبہ، پٹ فیڈر کینال میں 58 فیصد کمی بلوچستان میں 1.26 ملین ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی واگزار، مالیت 1.78 کھرب روپے سے تجاوز پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی: وزیر اعظم شہباز شریف کا امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا اعلان مودی سرکار کے لیے نیا سیاسی چیلنج: طنزیہ تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بھارتی نوجوانوں کی بڑی طاقت بن کر ابھرنے لگی معاشی انقلاب: خصوصی اقتصادی اور ٹیکنالوجی زونز کے فروغ میں ایس آئی ایف سی (SIFC) کا کلیدی کردار جناح انفارمیشن ٹیکنالوجی حب پنجگور مقامی نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بن گیا تاریخی کامیابی: نیب اور حکومت بلوچستان کی مشترکہ کارروائی، 17 کھرب روپے سے زائد کی سرکاری اراضی واگزار اسٹیٹ بینک آف پاکستان نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کرے گا، شرح سود میں تبدیلی متوقع تاریخی پیش رفت: امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ مکمل، صدر ٹرمپ کا بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان دُمب بازار میں واٹر سپلائی اسکیم کا افتتاح، عوام کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی جانب اہم قدم سیدال خان اور عبدالقادر بلوچ کی ملاقات، بلوچستان کی ترقی اور عوامی فلاح پر تفصیلی گفتگو کوہلو: میونسپل کمیٹی کے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر عالیانی قبائل کے تحفظات، شفافیت کا مطالبہ بلوچستان کے مسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ
Balochistan Khabar

بجٹ 2026.27, ریاست کی ترجیحات کیا ہیں ؟معاشی استحکام یا قرضوں کا گرداب


پاکستان کا بجٹ 2026-27 پیش ہو چکا ہے حکومتی وزراء اسے معاشی استحکام ترقی اور خوشحالی کا بجٹ قرار دے رہے ہیں جبکہ اپوزیشن اور ماہرین معیشت اسے اعداد و شمار کی ایسی جادوگری قرار دے رہے ہیں جس کا عام آدمی کی زندگی سے کوئی تعلق نہیں اب سوال یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے کیا واقعی پاکستان معاشی بحالی کے راستے پر گامزن ہے یا ہم ایک بار پھر قرضوں کے سہارے اپنی مشکلات کو اگلے سال تک دھکیل رہے ہیں سینئر صحافی ہارون الرشید نے حال ہی میں ایک جملہ لکھا جو شاید پورے بجٹ کا خلاصہ ہے ان کے بقول دو میں سے ایک ہی چیز زندہ بچ سکتی ہے شاہی خاندانوں کے بجلی گھر یا قومی معیشت حکومتی فیصلہ واضح ہے کہ ملک جائے بھاڑ میں ہر قیمت پر شاہی خاندانوں کی بقا سلامتی اور سرفرازی سلامت رہے اگرچہ یہ ایک سخت تبصرہ ہے لیکن بجٹ کے اعداد و شمار کو دیکھنے کے بعد یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ریاست کی ترجیحات آخر ہیں کیا بجٹ کا کل حجم 18 ہزار 771 ارب روپے ہے حکومت کو ٹیکسوں سے 15 ہزار 264 ارب روپے اور نان ٹیکس ذرائع سے 5 ہزار 335 ارب روپے حاصل ہونے کی امید ہے این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو ان کا آئینی حصہ منتقل کرنے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس تقریباً 11 ہزار 751 ارب روپے کے وسائل بچتے ہیں لیکن کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے صرف قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے 17 ہزار 495 ارب روپے درکار ہیں دفاعی اخراجات تقریباً 3 ہزار ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں جبکہ پنشن کی مد میں 1 ہزار 169 ارب روپے خرچ ہوں گے یعنی ریاست کی آمدن سے کہیں زیادہ رقم صرف ان چند لازمی اخراجات کی نذر ہو جاتی ہے اب سوال یہ ہے کہ تعلیم کہاں سے آئے گی صحت کہاں سے آئے گی صنعت کاری زراعت روزگار تحقیق اور ترقی کے منصوبوں کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب بجٹ تقریروں میں نہیں ملتے مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں جامعات مالی بحران کا شکار ہیں اور تحقیق کے لیے وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں وہاں تعلیم کے لیے انتہائی محدود رقم مختص کی جاتی ہے جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 850 ارب روپے رکھے گئے ہیں غریبوں کی مدد یقیناً ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن قومیں مستقل امداد سے نہیں بلکہ تعلیم ہنر اور روزگار سے ترقی کرتی ہیں اگر نوجوان کو معیاری تعلیم جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کا موقع نہ ملے تو امدادی چیک اسے غربت سے نکالنے کے بجائے ریاست پر مزید انحصار کرنے پر مجبور کر دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں ایک خطرناک رجحان جنم لے رہا ہے ریاست غربت ختم کرنے کے بجائے غربت کو منظم کرنے میں مصروف دکھائی دیتی ہے لوگوں کو خود کفیل بنانے کے بجائے انہیں امدادی نظام کا حصہ بنایا جا رہا ہے اسی دوران حکومتی ارکان کے لیے ترقیاتی فنڈز اور خصوصی رقوم مختص کی جا رہی ہیں ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہوں سیاسی اشرافیہ کے لیے خصوصی مراعات عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں

شہریار خان مہر کا یہ جملہ عوامی احساسات کی ترجمانی کرتا ہے کہ حکومت صبح نکل کر ڈھونڈتی ہے کہ عام آدمی کو ریلیف کہاں مل رہا ہے پھر آ کر اس ریلیف کو بھی بند کر دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ بجٹ تقریروں میں ترقی کے دعوے سننے والا عام شہری جب اپنے بجلی کے بل گیس کے بل پٹرول کی قیمت اور بازار کی مہنگائی دیکھتا ہے تو اسے یہ معاشی استحکام کہیں نظر نہیں آتا حکومت کا مؤقف ہے کہ مہنگائی کم ہوئی ہے زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے ہیں اور معیشت استحکام کی طرف جا رہی ہے لیکن کسی بھی معیشت کی مضبوطی کا معیار صرف یہ نہیں ہوتا کہ افراطِ زر چند فیصد کم ہو گئی یا ڈالر چند روپے نیچے آ گیا اصل معیار یہ ہوتا ہے کہ کتنی نئی صنعتیں لگ رہی ہیں کتنے روزگار پیدا ہو رہے ہیں برآمدات میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے اور نوجوانوں کو مستقبل کے کتنے مواقع میسر آ رہے ہیں بدقسمتی سے موجودہ بجٹ میں ان سوالات کے جوابات کم اور تشویش زیادہ نظر آتی ہے

سوال یہ نہیں کہ بجٹ کا حجم کتنا ہے سوال یہ ہے کہ اس بجٹ میں پاکستان کے مستقبل کا حصہ کتنا ہے اگر قرضوں پنشن اور غیر پیداواری اخراجات کے بعد ترقی کے لیے وسائل ہی باقی نہیں بچتے تو پھر معاشی استحکام کے دعوے محض اعداد و شمار کا کھیل ہیں قومیں قرضوں سے نہیں علم صنعت اور پیداوار سے ترقی کرتی ہیں حکومت کہتی ہے کہ معیشت سنبھل رہی ہے مگر اعداد و شمار پوچھتے ہیں کہ اگر سب کچھ بہتر ہو رہا ہے تو پھر ملک کو چلانے اور ترقی دینے کے لیے ہر سال مزید قرض کیوں درکار ہے شاید یہی وہ سوال ہے جس کا جواب بجٹ دستاویزات میں نہیں عوام کی خالی جیبوں میں ملتا ہے

Mir Aslam Rind

Written by

Mir Aslam Rind