'اسلام آباد اکارڈ' پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہوں گے؛ آبنائے ہرمز کو بغیر ٹول فیس مکمل کھولنے کی اجازت
واشنگٹن / تہران — مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں پرانے تناؤ کے خاتمے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی حکام نے دونوں ممالک کے درمیان ایک جامع امن معاہدہ مکمل ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
'اسلام آباد اکارڈ' کے نام سے سامنے آنے والے اس مفاہمتی یادداشت (MoU) کے تحت امریکا ایران کی بحری ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر رہا ہے، جس کے بعد خطے میں جنگی صورتحال کا خاتمہ متوقع ہے۔
تمام جہاز اپنے انجن اسٹارٹ کریں اور تیل کی ترسیل شروع کریں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس سے جاری اپنے اہم بیان میں ایران کے ساتھ امن معاہدہ مکمل ہونے کا باضابطہ اعلان کیا۔
صدر ٹرمپ نے کہا: "میں آبنائے ہرمز کو بغیر کسی ٹول فیس کے تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھولنے کی اجازت دیتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی بحری ناکہ بندی کو بھی فوری طور پر ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔ تمام بحری جہاز اپنے انجن اسٹارٹ کریں اور تیل کی ترسیل شروع کریں۔"
امریکی اعلان کے مطابق، امریکا کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ آج رات سے ہی نافذ العمل ہو جائے گا۔
ایران کی جانب سے معاہدے کی تصدیق، مگر 'دشمن پر اندھا اعتبار نہیں کریں گے'
دوسری جانب، ایرانی نائب وزیر خارجہ نے بھی امریکا کے ساتھ امن معاہدے پر اتفاق کی تصدیق کر دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مفاہمتی یادداشت کے متن کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے نتیجے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری طور پر جنگ کا خاتمہ ہو رہا ہے۔
ایرانی حکام نے واضح کیا کہ اس مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ دشمن پر اندھا اعتماد کر رہے ہیں۔ ایرانی دفترِ خارجہ کے مطابق، جب تک ایران کی حتمی اور بنیادی شرائط کو شامل نہیں کیا گیا، اس وقت تک ایم او یو پر اتفاق نہیں کیا گیا۔
معاہدے کے اہم نکات اور آئندہ کا لائحہ عمل
رسمی دستخط: 'اسلام آباد اکارڈ' پر باقاعدہ دستخط رواں ہفتے جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، جس کے بعد متن کو عوامی سطح پر جاری کیا جائے گا۔
حتمی مذاکرات: مستقل معاہدے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان اگلے 60 دنوں کے اندر باضابطہ مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
ثالثوں کا کردار: آئندہ ہونے والے تمام مذاکراتی ادوار میں بھی عالمی ثالث موجود رہیں گے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے معاہدے کی معمولی سی بھی خلاف ورزی کی گئی، تو ایران تلافی کے لیے خود فوری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔