تازہ ترین
مردان کے قریب پاک فضائیہ کا تربیتی طیارہ گر کر تباہ، دو پائلٹ شہید بلوچستان کے مسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ بلوچستان کا سندھ سے اپنے حصے کے پانی کی فراہمی کا مطالبہ، پٹ فیڈر کینال میں 58 فیصد کمی بلوچستان میں 1.26 ملین ایکڑ سے زائد سرکاری اراضی واگزار، مالیت 1.78 کھرب روپے سے تجاوز پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی: وزیر اعظم شہباز شریف کا امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا اعلان مودی سرکار کے لیے نیا سیاسی چیلنج: طنزیہ تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ بھارتی نوجوانوں کی بڑی طاقت بن کر ابھرنے لگی معاشی انقلاب: خصوصی اقتصادی اور ٹیکنالوجی زونز کے فروغ میں ایس آئی ایف سی (SIFC) کا کلیدی کردار جناح انفارمیشن ٹیکنالوجی حب پنجگور مقامی نوجوانوں کے روشن مستقبل کی ضمانت بن گیا تاریخی کامیابی: نیب اور حکومت بلوچستان کی مشترکہ کارروائی، 17 کھرب روپے سے زائد کی سرکاری اراضی واگزار اسٹیٹ بینک آف پاکستان نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کرے گا، شرح سود میں تبدیلی متوقع تاریخی پیش رفت: امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ مکمل، صدر ٹرمپ کا بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان دُمب بازار میں واٹر سپلائی اسکیم کا افتتاح، عوام کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کی جانب اہم قدم سیدال خان اور عبدالقادر بلوچ کی ملاقات، بلوچستان کی ترقی اور عوامی فلاح پر تفصیلی گفتگو کوہلو: میونسپل کمیٹی کے ترقیاتی فنڈز کی تقسیم پر عالیانی قبائل کے تحفظات، شفافیت کا مطالبہ بلوچستان کے مسائل کا حقیقت پسندانہ جائزہ پاکستان کے لیے بڑا عالمی اعزاز؛ فیفا ورلڈ کپ 2026 کی آفیشل فٹبال بھی سیالکوٹ میں تیار ہو گی عالمی سپلائی چین پر سیالکوٹ کا راج؛ دنیا کی 70 فیصد فٹبالز پاکستان میں تیار ہونے کا عالمی میڈیا کا اعتراف
بلوچستان خبر

تاریخی کامیابی: نیب اور حکومت بلوچستان کی مشترکہ کارروائی، 17 کھرب روپے سے زائد کی سرکاری اراضی واگزار

تاریخی کامیابی: نیب اور حکومت بلوچستان کی مشترکہ کارروائی، 17 کھرب روپے سے زائد کی سرکاری اراضی واگزار

کوئٹہ، گوادر اور لسبیلہ سمیت مختلف اضلاع میں لاکھوں ایکڑ اراضی مافیا سے آزاد؛ گوادر میں لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن آخری مراحل میں داخل

کوئٹہ — ملک میں قانون کی بالادستی اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے قومی احتساب بیورو (نیب) بلوچستان اور صوبائی حکومت نے ایک تاریخی آپریشن کے دوران لینڈ گریبرز اور قبضہ مافیا کے چنگل سے اربوں نہیں بلکہ کھربوں روپے مالیت کی لاکھوں ایکڑ سرکاری اراضی واگزار کرا لی ہے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان اور چئیرمین نیب کی خصوصی ہدایات پر کی جانے والی اس کارروائی کو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اراضی واگزاری مہم قرار دیا جا رہا ہے۔

مہم کا پس منظر: 2025 کے آڈٹ میں سنسنی خیز انکشافات

اس بڑے آپریشن کا آغاز اس وقت ہوا جب سال 2025 میں بلوچستان کے جنگلات کی زمینوں کی اسکروٹنی کے دوران یہ معلوم ہوا کہ محکمہ جنگلات کی تقریباً 28 لاکھ ایکڑ اراضی کا کوئی باقاعدہ سرکاری ریکارڈ یا انتقال موجود ہی نہیں تھا۔ نیب بلوچستان نے اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ریونیو اور محکمہ جنگلات وائلڈ لائف کے ساتھ مل کر ایک وسیع آپریشن شروع کیا۔

سال 2025 کی کارروائی: ابتدائی مرحلے میں 10 لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی واگزار کرائی گئی جس کی مالیت تقریباً 1,370 ارب روپے تھی۔

سال 2026 کا ایکشن: اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے رواں سال مزید 2 لاکھ 60 ہزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی مالیت 414.2 ارب روپے ہے۔

اضلاع کے لحاظ سے حاصل ہونے والی کامیابیاں

سرکاری ریکارڈ کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

کوئٹہ: محکمہ جنگلات کی 47 ہزار ایکڑ اراضی واگزار کرائی گئی، جس کی مالیاتی قدر سب سے زیادہ یعنی 354 ارب روپے ہے۔

گوادر: رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑی کامیابی گوادر میں ملی جہاں 25 ارب روپے مالیت کی 1 لاکھ 76 ہزار ایکڑ زمین قبضہ مافیا سے چھڑائی گئی۔

دیگر اضلاع: شیرانی میں 29 ارب روپے، سبی میں 2.3 ارب روپے، لسبیلہ میں 2.2 ارب روپے اور حب میں 50 کروڑ روپے مالیت کی اراضی کامیابی سے بحال کرائی گئی۔

مستقبل میں قبضوں کی روک تھام اور ڈیجیٹلائزیشن

نیب بلوچستان نے واضح کیا ہے کہ ریاستی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کسی صورت برداشت نہیں کیے جائیں گے اور یہ مہم بلا تفریق اور مکمل شفافیت کے ساتھ جاری رہے گی۔

مستقبل میں ایسی جعل سازی کو روکنے کے لیے بلوچستان حکومت نے جدید مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں گوادر میں زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ اور ڈیجیٹل کرنے کا کام اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ واگزار کرائی گئی تمام زمینیں محکمہ جنگلات کے حوالے کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں عوامی فلاح و بہبود اور ماحول دوست منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔