طالبان رجیم میں بدترین سیکیورٹی صورتحال: کینیڈا کا شہریوں کو افغانستان نہ جانے کا حکم
اوٹاوا — افغانستان میں طالبان رجیم کے زیر سایہ امن و امان کی مخدوش ہوتی صورتحال اور بڑھتے ہوئے دہشتگردانہ خطرات کے پیشِ نظر کینیڈین حکومت نے اپنے شہریوں کے لیے سخت ترین ٹریول ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔ اوٹاوا نے تمام کینیڈین شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ سیکیورٹی رسک اور متشدد کارروائیوں کے باعث افغانستان کے سفر سے مکمل گریز کریں۔
کینیڈین حکومت کے انتباہی احکامات اور سیکیورٹی خدشات
کینیڈا کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ہنگامی ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ پورے افغانستان بشمول دارالحکومت کابل میں حالات انتہائی غیر مستحکم ہیں۔ پہلے سے موجود شہریوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اپنے حفاظتی انتظامات کا ازسرنو جائزہ لے کر فوری طور پر محفوظ ترین مقامات پر منتقل ہونے کی منصوبہ بندی کریں۔
ٹریول ایڈوائزری کے نمایاں نکات اور خطرات کا جائزہ
اغوا اور بلاجواز گرفتاریاں: کینیڈین حکام کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کو بے بنیاد الزامات کے تحت حراست میں لیے جانے اور اغوا برائے تاوان کے سنگین خطرات درپیش ہیں۔
دہشتگرد گروہوں کا متحرک ہونا: خطے میں سرگرم انتہا پسند گروہ غیر ملکی عملے، بین الاقوامی صحافیوں اور امدادی کارکنوں کو مسلسل ہدف بنا سکتے ہیں۔
کابل سمیت ملک گیر خطرہ: شہری مراکز اور اہم تنصیبات پر خودکش حملوں، فائرنگ اور بم دھماکوں کے مستقل خطرات موجود ہیں۔
طالبان حکومت کی عالمی تنہائی اور بین الاقوامی ردعمل
بین الاقوامی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان انتظامیہ بنیادی حقوق کے تحفظ، انسدادِ دہشتگردی اور جامع حکومت سازی سے متعلق عالمی معاہدوں پر عمل درآمد میں مسلسل ناکام رہی ہے، جس کے نتیجے میں کابل عالمی تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ کینیڈا سے قبل ریاستہائے متحدہ امریکا اور برطانیہ سمیت دیگر مغربی ممالک بھی اپنے شہریوں کے لیے افغانستان کے سفر پر سخت پابندیاں اور احتیاطی وارننگ جاری کر چکے ہیں۔