بھارت میں دلت بدترین مظالم کا شکار، مودی حکومت کے کھوکھلے دعوے بے نقاب

بھارت میں دلت بدترین مظالم کا شکار، مودی حکومت کے کھوکھلے دعوے بے نقاب

Sep 5, 2026|ویب ڈیسک

​نئی دہلی — نام نہاد سیکولر اور جمہوری بھارت میں پسماندہ دلت کمیونٹی آج بھی شدید ذات پات کی تفریق، ناانصافی اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کا شکار ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورِ اقتدار میں دلتوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک نے بھارتی حکومت کے نام نہاد سماجی انصاف اور مساوات کے نعروں کی قلعی کھول دی ہے۔

​یو سی اے نیوز کی تہلکہ خیز رپورٹ: آئینی مساوات کا سراب

​عالمی کیتھولک خبری ادارے یو سی اے نیوز (UCA News) کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں دلتوں کا مساوی انسانی حقوق سے محروم ہونا صدیوں پرانے ذات پات کے متعصب نظام کے بدستور قائم رہنے کا بین ثبوت ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ بھارتی آئین میں برابری کی شقیں کروڑوں دلتوں کے لیے محض کاغذی دعویٰ ثابت ہو رہی ہیں، جبکہ عملی میدان میں انصاف کا دوہرا معیار رائج ہے۔

​رپورٹ کے ہوشربا اعداد و شمار اور کلیدی نکات

​تشدد کے بڑھتے واقعات: صرف سال 2022 کے دوران دلتوں پر وحشیانہ تشدد اور جرائم کے 57,500 سے زائد مقدمات درج ہوئے۔

​اتر پردیش تشدد کا گڑھ: بی جے پی کی زیر حکومت ریاست اتر پردیش میں دلتوں کے خلاف سب سے زیادہ یعنی 15,000 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

​عدالتی و سماجی دوہرا معیار: اونچی ذات کی خواتین کے خلاف کسی بھی واقعے پر فوری آواز اٹھائی جاتی ہے، جبکہ دلت خواتین اور شہریوں پر بہیمانہ مظالم کے وقت انصاف کا نظام خاموش تماشائی بن جاتا ہے۔

​راہول گاندھی کا بی جے پی پر شدید حملہ

​بھارتی حزبِ اختلاف کے اہم رہنما راہول گاندھی نے بی جے پی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران جماعت سے وابستہ انتہا پسند عناصر کھلے عام دلتوں کے خلاف امتیازی سوچ اور نفرت کو ریاستی سطح پر فروغ دے رہے ہیں۔ مودی سرکار کے زیر سایہ جاری ان مظالم نے دنیا کے سامنے بھارتی جمہوری چہرے کی اصل حقیقت کو آشکار کر دیا ہے۔