یومِ دفاع: کیپٹن اسامہ بن ارشد شہید کی شجاعت اور قربانی کو سلام

یومِ دفاع: کیپٹن اسامہ بن ارشد شہید کی شجاعت اور قربانی کو سلام

Sep 5, 2026|ویب ڈیسک

​راولپنڈی — 6 ستمبر یومِ دفاع و شہداء کے تاریخی موقع پر پوری قوم پاک فوج کے اس عظیم سپوت، کیپٹن اسامہ بن ارشد شہید کی لازوال قربانی کو سرخ سلام پیش کر رہی ہے، جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف اگلے محاذ پر جوانوں کی حفاظت کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا۔ سال 2020 میں پاک فوج کے ایئر ڈیفنس کور میں کمیشن حاصل کرنے والے کیپٹن اسامہ مشکل ترین حالات میں فرنٹ لائن پر پیش قدمی اور اپنے ماتحتوں کی ڈھال بننے کے باعث ایک مثالی کردار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں۔

کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل اویس کا خراجِ تحسین: ایک شفیق مینٹور اور دلیر افسر

​یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل اویس نے کیپٹن اسامہ بن ارشد شہید کی پیشہ ورانہ قابلیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ نہ صرف ایک غیر معمولی فوجی اور بے خوف افسر تھے بلکہ جوانوں کے لیے ایک ہمدرد اور شفیق مینٹور کی حیثیت رکھتے تھے۔ دسمبر 2023 میں جب یونٹ کی حساس علاقے شمالی وزیرستان منتقلی عمل میں آئی تو تمام پیچیدہ انتظامی اور آپریشنل امور کیپٹن اسامہ نے غیر معمولی مہارت سے سرانجام دیے۔ ہر خطرناک معرکے اور آپریشن میں ازخود رضاکارانہ طور پر آگے رہنا ان کا امتیازی طرۂ امتیاز تھا۔

​9 جولائی 2024 کے معرکے کے چشم دید گواہ نائک علی حسن کے بیانات

​سحر انگیزی میں پیش قدمی: نائک علی حسن کے مطابق 9 جولائی 2024 کی علی الصبح چار بجے کیپٹن اسامہ بن ارشد کی قیادت میں گشتی دستہ فارورڈ پوسٹ پر ڈیوٹی کے لیے روانہ ہوا۔

​دہشت گردانہ حملہ: صبح نو بجے کے قریب گھات لگائے بیٹھے دہشت گردوں نے خودساختہ بارودی سرنگ (آئی ای ڈی) کا زوردار دھماکہ کیا۔

​ساتھیوں کا تحفظ: کیپٹن اسامہ نے کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دھماکے کا بنیادی اثر خود اپنے جسم پر برداشت کیا اور اپنے ساتھی جوانوں کی جانیں بچاتے ہوئے مادرِ وطن پر نچھاور ہو گئے۔

​لازوال قربانی جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گی

​کیپٹن اسامہ بن ارشد شہید کا کردار فرض شناسی، بے لوث قیادت اور رفقائے کار کے لیے اپنی جان قربان کرنے کی وہ تابناک داستان ہے جو ملکی دفاع کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائے گی۔ 6 ستمبر کے تجدیدِ عہد کے دن قوم اپنے اس باہمت محافظ کو سلام پیش کرتی ہے۔