غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افغان باشندوں کے گرد عالمی سطح پر گھیرا تنگ
غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افغان باشندوں کے گرد عالمی سطح پر گھیرا تنگ
انقرہ / کابل: غیر قانونی دستاویزات پر مقیم اور سنگین جرائم میں ملوث افغان مہاجرین دنیا بھر کے میزبان ممالک کے لیے سنگین انتظامی اور سیکیورٹی چیلنج بن چکے ہیں۔ بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کے سلسلے میں ترکیہ سمیت مختلف ممالک نے کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے، جہاں ریکارڈ تعداد میں افغان باشندوں کی گرفتاریاں اور جبری بے دخلی جاری ہے۔
ترکیہ میں غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف وسیع پیمانے پر آپریشن
افغان میڈیا ادارے خامہ پریس کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ترکیہ کے سیکیورٹی اداروں نے رواں سال کے پہلے 8 ماہ (جنوری تا اگست) کے دوران سخت تلاشی مہم چلائی۔ اس دوران ملک بھر سے مجموعی طور پر لگ بھگ 95 ہزار غیر قانونی تارکینِ وطن کو حراست میں لیا گیا، جن میں سب سے بڑی شرح افغان شہریوں کی ہے۔
ترکیہ کریک ڈاؤن اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار
بڑے پیمانے پر گرفتاریاں: ترک حکام نے رواں سال کے ابتدائی 8 ماہ میں 25 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو قانونی دستاویزات کی عدم دستیابی پر گرفتار کیا۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار: اقوام متحدہ کے ادارہ جاتی ڈیٹا کے مطابق سال 2026 کے ابتدائی 5 ماہ کے دوران 13 ہزار سے زائد غیر دستاویزی افغان باشندوں کو ترکیہ سے بحفاظت ڈی پورٹ کیا گیا۔
گرفتار شدگان کی شناخت: ترک وزارتِ داخلہ نے تصدیق کی کہ حراست میں لیے گئے تارکین کے پاس قانونی ویزا، پاسپورٹ یا رہائشی اجازت نامے موجود نہیں تھے۔
بدترین معاشی بدحالی اور میزبان ممالک کے سیکیورٹی خدشات
دفاعی اور سفارتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت میں روزگار کے خاتمے، غربت اور ابتر معاشی حالات کے باعث ہزاروں افغان شہری غیر قانونی راستوں کا انتخاب کر کے بیرونِ ملک فرار ہو رہے ہیں۔
ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کی آڑ میں منظم جرائم پیشہ عناصر کی آمد نے خطے اور میزبان ممالک کے امن و امان، سماجی توازن اور داخلی تحفظ کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔