بحری شعبے میں انقلاب: شپ بلڈنگ، ری سائیکلنگ اور فشریز میں تاریخی پیش رفت

بحری شعبے میں انقلاب: شپ بلڈنگ، ری سائیکلنگ اور فشریز میں تاریخی پیش رفت

Sep 5, 2026|ویب ڈیسک

​اسلام آباد / کراچی — وزیراعظم ٹاسک فورس برائے بحری اصلاحات کے تحت پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کو خود انحصار اور منافع بخش بنانے کے لیے تاریخ ساز اقدامات کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکومتی حکمتِ عملی کے تحت کمرشل شپ یارڈز کی تعمیرِ نو، بحری بیڑے میں توسیع، شپ ری سائیکلنگ کی بحالی اور ایکوا کلچر کے پانچ سالہ منصوبے پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے۔

​جہاز سازی کی بحالی اور قومی کارگو صلاحیت میں اضافہ

​کراچی میں 1980 کی دہائی کے بعد پہلی مرتبہ کمرشل شپ یارڈز کے قیام کا عمل بحال کر دیا گیا ہے، جس سے ملک میں بڑی تجارتی کشتیوں اور کارگو جہازوں کی مقامی تیاری ممکن ہو سکے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل لاجسٹکس سیل (این ایل سی) کی شپنگ سیکٹر میں شمولیت نے ترسیلات کے عمل میں قومی صلاحیت اور درآمدی و برآمدی کارگو کے ملکی جہازوں کے ذریعے نقل و حمل کے عزم کو تقویت بخشی ہے۔

​اہم معاشی و صنعتی سنگِ میل

​پی این ایس سی بیڑے میں وسعت: پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اپنے فلیٹ کو 54 بحری جہازوں تک بڑھا کر قومی کارگو ٹرانسپورٹیشن میں ملکی حصے کو تاریخی سطح پر لے جا رہی ہے۔

​شپ ری سائیکلنگ کی بحالی: آٹھ برس کے تعطل کے بعد شپ ری سائیکلنگ انڈسٹری کو دوبارہ فعال کر دیا گیا ہے، جس کے تحت 16 نجی ری سائیکلنگ یارڈز قائم کیے جا چکے ہیں۔

​ہانگ کانگ کنونشن کی منظوری: ماحول دوست اور محفوظ شپ ری سائیکلنگ کے بین الاقوامی ضوابط نافذ کر کے پاکستان نے یورپی اور عالمی خریداروں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں۔

​ماہی گیروں کے لیے 5 سالہ روڈ میپ: ماہی گیری اور ایکوا کلچر کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 5 سالہ ترقیاتی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جس کا بنیادی ہدف ساحلی آبادیوں اور ماہی گیروں کی معاشی حالت سدھارنا ہے۔

​میری ٹائم سیکٹر ملکی معیشت کے نئے انجن کے طور پر فعال

​ماہرین کے مطابق شپ بلڈنگ، گرین شپ ری سائیکلنگ اور فشریز انڈسٹری میں ہمہ جہت اصلاحات کے نتیجے میں نہ صرف اربوں ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہوگی بلکہ ساحلی علاقوں میں لاکھوں روزگار کے نئے مواقع جنم لیں گے، جس سے پاکستان ایک مضبوط خطہ جاتی میری ٹائم پاور بن کر ابھرے گا۔