مودی  حکومت  میں  مسلم اقلیت کی بگڑتی ہوئی صورتحال

مودی حکومت میں مسلم اقلیت کی بگڑتی ہوئی صورتحال

Aug 8, 2026|ویب ڈیسک

​ہندو انتہا پسندی کے غلبے کی حامل مودی حکومت نے بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی وفاداری کو مشکوک بنا کر کروڑوں زندگیوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ہندوتوا راج کے تحت بھارتی مسلمانوں کا جینا محال کر دیا گیا ہے، جہاں انہیں تعلیم جیسے بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ ریاست کی سرپرستی میں مسلمانوں پر تشدد، مساجد کی بے حرمتی اور نفرت انگیز مہمات اب روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں، جس نے قائد اعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کی صداقت کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔

​تعلیمی اداروں اور مظاہروں میں مسلمانوں سے امتیازی سلوک

​بھارتی جریدے نیشنل ہیرالڈ کی رپورٹ کے مطابق، مسلمان طالبہ فرح ناز نے ریاستی جبر کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ جنتر منتر پر امن احتجاج کے دوران بھارتی پولیس نے ان پر تشدد کیا۔ فرح ناز کے مطابق:

​پولیس تشدد اور حراست: "مجھے مسلمان ہونے کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک پولیس گاڑی میں محبوس رکھا گیا۔"

​فرقہ وارانہ تفریق: "پولیس اہلکاروں نے دھمکی دی کہ تم غدار ہو، اس لیے تمہاری اور دیگر مسلمان مظاہرین کی الگ لسٹ تیار کی جائے گی۔"

​سوشل میڈیا پر ہراسانی: "آن لائن پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر بھی ہمیں مسلسل 'غدار' کہہ کر ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔"

​دو قومی نظریے کی تاریخی صداقت

​بھارت میں مسلسل بڑھتے ہوئے ریاستی تشدد اور تعصب کے باعث یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ قائد اعظم کا بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کے حوالے سے خدشہ سچ ثابت ہوا ہے۔ آج بھارتی مسلمانوں کو ہر روز اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینا پڑ رہا ہے، جو کہ جدید جمہوری اقدار اور بنیادی انسانی حقوق کے یکسر منافی ہے۔