بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام کا عوامی مطالبہ زور پکڑ گیا
ملک بھر میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبوں اور یونٹس کے قیام کے مطالبے میں تیزی آ گئی ہے، جس کی بازگشت اب رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں بھی سنائی دینے لگی ہے۔
لسبیلہ کے شہریوں نے صوبے میں نئے انتظامی یونٹس کے حق میں آواز اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بلوچستان کو مزید چار صوبوں میں تقسیم کر دیا جائے تو یہ خطے کی ترقی کے لیے ایک تاریخی اور خوش آئند پیش رفت ثابت ہوگی۔ مقامی لوگوں کا مؤقف ہے کہ لسبیلہ کو علیحدہ صوبائی حیثیت ملنے سے عوام کو روزمرہ امور اور بنیادی کاموں کے لیے دارالحکومت کوئٹہ کے طویل اور کٹھن سفر سے نجات مل جائے گی۔
شہریوں نے مؤقف اپنایا کہ دور دراز اور وسیع رقبے پر پھیلے علاقوں پر مشتمل بلوچستان میں نئے صوبوں کے قیام سے عوامی مسائل مقامی سطح پر فوری حل ہو سکیں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف عام شہری اپنے مسائل باآسانی متعلقہ حکام اور محکموں تک پہنچا سکیں گے بلکہ انتظامی اصلاحات کے نتیجے میں عوام کو ان کی دہلیز پر بنیادی سہولیات ملیں گی اور حکومتی نظم و نسق میں واضح بہتری آئے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق شہریوں کی جانب سے اٹھائی جانے والی یہ آواز اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ مقامی آبادی گڈ گورننس کے لیے نئے انتظامی صوبوں کی تجویز کی بھرپور حامی ہے