مولانا کا مسئلہ کیا ہے ؟
مولانا فضل الرحمن کا لب و لہجہ بتا رہا ہے کہ گیم کچھ اور ہے ۔قدرت کلام کے باب میں مولانا کو یہ رعایت نہیں دی جا سکتی کہ انہوں نے جذبات کی رو میں بہہ کر مجمع کو خوش کرنے کے لیے خطابت کے جوہر دکھائے ۔مولانا ان چند سیاستدانوں میں پہلے نمبر پر ہیں جنہیں اپنے جذبات اور کلام پر مکمل قدرت حاصل ہے اور وہ خوب جانتے ہیں کہ جو وہ کہہ رہے ہیں اور جس سے کہہ رہے ہیں اس کا مطلب کیا ہے ،ان کی گفتگو شعوری بھی ہے اور مکمل پیغام بھی ۔۔۔مولانا فوج سے ناراض ہیں انہیں شکوہ ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست میں انہیں وہ حیثیت نہیں دی گئی جو انہیں ملنی چاہیے تھی ۔وہ اس کا اظہار بند کمروں میں اور کھلے بندوں بھی کرتے ا رہے ہیں لیکن حدودو قیود کا خیال رکھتے ہوئے ،مولانا فوج سے ناراض ہیں لیکن فوج کی سیاسی ،عالمی اور علاقائی اہمیت اور کردار کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں اس لیے ناراضی کا اظہار ہمیشہ ایک لمٹ میں رہ کر کرتے ہیں تحریک انصاف کی طرح طبل جنگ نہیں بجاتے ۔
مولانا کے تازہ ارشادات کیا اسی ناراضی کا اظہار ہیں جو وہ اس حکومت کے قیام کے وقت سے کرتے ا رہے ہیں ،میرا خیال ہے، نہیں ،تازہ لب و لہجہ بتا رہا ہے کہ مولانا نے تنقید کے لیے جو ریڈ لائن متعین کی تھی اس کو کراس کرنے کے لیے یہ ٹیسٹر لگایا ہے ۔فوج کے شہدا اور قیادت کے بارے میں الفاظ کا انتخاب بتا رہا ہے کہ مولانا کس موڈ میں ہیں ۔۔بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں سیکیورٹی کی صورتحال اورملک بھر میں عام ادمی کی بے چیبنی کو مد نظر رکھتے ہوئے مولانا نے حساب کتاب لگایا ہے کہ یہ مناسب وقت ہے فوج کو دبانے یا موزوں ترین الفاظ میں بلیک میل کرنے کا ۔مولانا یہ سمجھ رہے ہیں کہ فوج بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں بھارت ، اسرائیل اور افغانستان سے بر سر پیکار ہے اور ایک عالمی دہشت گردی کے مقابل تن تنہا لڑ رہی ہے اسے دونوں صوبوں میں سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی کوئی سپورٹ حاصل نہیں بلکہ خیبر پختونخواہ کی حکومت تو الٹا اس کے خلاف ہے اور بلوچستان میں وزیر اعلی اور چند ایک وزرا کے علاوہ سیاسی جماعتوں ،حکومتی زعما اور سرداران کی مخالفت کا بھی اسے سامنا ہے ۔پنجاب میں مہنگائی ،بیورکریٹک طرز حکومت اور پیرا فورس اور سی ٹی ڈی جیسی فورسز کے خلاف عوامی ردعمل مسلسل شدید ہو رہا ہے اور اس بیڈ گورننس کے خلاف اٹھنے والی انگلیاں بھی فوج کی طرف ہیں جس سے فوج عوامی حمایت کھو رہی ہے،لہذا یہ مناسب ترین وقت ہے فوج کے خلاف زہر اگلنے کا اور اسے بلیک میل کرنے کا ۔۔یہ ہے مولانا کی کلکولیشن ۔۔مولانا جس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں ایسی زبان انہوں نے اج تک ان دہشت گردوں کے خلاف استعمال نہیں کی جنہوں نے معصوم شہریوں اور نہتے عوام کو خون میں نہلایا ،ان سفاک درندوں کے خلاف مولانا کے منہ سے کبھی سخت جملہ نہیں نکلا جنہوں نے شہدا کی لاشوں کا مثلہ کیا ۔بلکہ مولانا ان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہیں ۔مولنا نے یہ جو تازہ بساط بچھائی ہے اس کے پیچھے پورا ہوم ورک ہے ۔قصور میں اس جلسہ سے قبل ان کی سردار اختر مینگل سے ملاقات ہوئی ہے ،محمود اچکزئی سمیت پی ٹی ائی سے بھی روابط ہوئے اور سب نے پھر اپنے اپنے محاذ سنبھال لیے ۔اچکزئی اور اختر مینگل معصوم بلوچوں کی لاشوں پر اپنے بیانیے کی فصیل کھڑی کرنے کوئٹہ دھرنے میں پہنچ گئے اور مولانا نے پنجاب میں خطابت کے جوہر دکھائے ۔۔ایسے میں جب کہ بی ایل اے اور اسرائیل کے درمیان باقاعدہ معاہدہ ہو گیا ہے کہ اسرائیل بلوچستان میں بدامنی کے لیے بی ایل اے کو سپورٹ کرے گا اور بی ایل اے بلوچستان میں اپنی رٹ قائم کر کے اسرائیل کو پاکستان اور ایران کا گھیرا تنگ کرنے کے لیے سپورٹ کرے گی اور انڈیا ،افغانستان ایک ڈی این اے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلوچستان میں خونریزی کریں گے۔اس تمام صورتحال کے تناظر میں مولانا ،اختر مینگل، محمود اچکزئی اور ان کے حواریوں کی یہ تازہ مہم کوئی عوامی رابطہ مہم نہیں نہ یہ سیاسی ایکٹیویٹی ہے بلکہ یہ بی ایل اے ،اسرائیل اور بھارت کے ایجنڈے پر عملدرامد کی سہولت کاری ہے ۔کیا مولانا اور ان کے ساتھی سہولت کار فوج کو بلیک میل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور کیا فوج کی قیادت حالات کی تپش کی تاب نہ لاتے ہوئے ان سے ڈیل کرنے پر مجبور ہو جائے گی ؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب انے والا وقت دے گا ۔میرا خیال ہے موجودہ فوجی قیادت کچھ معاملات میں مکمل یکسو ہے اورمقامی و عالمی حالات اور سازشوں سے مکمل باخبر ہے ۔فوج جتنا دہشت گردوں کو جانتی ہے اس سے زیادہ ان کے سہولت کاروں سے واقف ہے ۔ اس لیے اطمینان رکھیں مولانا کی کلکولیشن جو بھی ہو فوج کی بھی ایک کلکولیشن ہے اور انہوں نے بھی امن کی کاسٹ نکالی ہوئی ہے ۔فوج اس سہولت کاری کو پاکستان کے خلاف سہولت کاری سمجھتی ہے اور اس بات کا عزم رکھتی ہے کہ جتنا دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا اجر ہے اس سے زیادہ ان کے سہولت کاروں کی چیخیں نکلوانے کا ثواب ہے ۔