بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کے ’آپریشن شعبان‘ میں مزید 3 خارجی دہشتگرد ہلاک
5 جولائی سے اب تک ہلاک خارجیوں کی مجموعی تعداد 117 تک پہنچ گئی؛ کمین گاہیں تباہ، بھاری اسلحہ و بارود برآمد
راولپنڈی/کوئٹہ (ویب ڈیسک): بلوچستان میں پاک فوج، فرنٹئیر کانسٹیبلری (ایف سی) اور پولیس کے مشترکہ 'آپریشن شعبان' کے دوران فتنہ الخوارج کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق تازہ ترین موثر کارروائیوں میں مزید 3 خارجی دہشتگرد اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں، جس کے بعد صرف آپریشن شعبان میں مارے جانے والے خارجیوں کی تعداد 79 جبکہ 5 جولائی سے جاری تمام انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں مجموعی ہلاکتیں 117 ہو گئی ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ فورسز کی بھرپور زمینی اور فضائی کارروائیوں کے باعث دہشتگرد اپنی کمین گاہیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ہوائی اور زمینی حملے اور اسلحے کی برآمدگی
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو جدید ہتھیاروں، زمینی دستوں اور فضائی کارروائیوں (Aerial Strikes) کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
کمین گاہوں کی تباہی: مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد اہم ٹھکانے اور خفیہ پناہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کر دی گئی ہیں۔
اسلحہ و گولہ بارود کی برآمدگی: فرار ہونے والے اور ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید خودکار اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان برآمد کیا گیا ہے۔
آخری دہشتگرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھنے کا عزم
یہ مربوط سیکیورٹی آپریشن 5 جولائی 2026 کو مانگی ڈیم چوکی اور دیگر مقامات پر ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے ردعمل میں شروع کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی حکام نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے پاک فوج، ایف سی اور پولیس کے جوان فرنٹ لائن پر سرگرم ہیں۔
جب تک بلوچستان کی دھرتی سے آخری خارجی دہشتگرد کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا، آپریشن شعبان پوری شدت کے ساتھ جاری رہے گا۔