وہ ایک ایس ایچ او کہاں ہے ؟
بلوچستان کے حالات تو ایک ایس ایچ او کی مار ہیں
یہ الفاظ جب پاکستان کے وزیر داخلہ کی زبان سے ادا ہوئے تو شاید مقصد یہ تاثر دینا تھا کہ بلوچستان کا بحران کوئی بڑا مسئلہ نہیں چند انتظامی اقدامات سے سب کچھ معمول پر آ سکتا ہے لیکن وقت نے ثابت کر دیا کہ مسائل کو بیانات سے نہیں بلکہ درست پالیسیوں اور زمینی حقائق کو تسلیم کرنے سے حل کیا جاتا ہے آج گزشتہ چند دنوں کے دوران کوئٹہ زیارت لسبیلہ ، خضدار اور بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تقریباً 50 سے زیادہ قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں شاہراہیں احتجاج سے بند ہیں اسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں کاروبار مفلوج ہیں اور ہر روز کسی نہ کسی گھر سے جنازہ اٹھ رہا ہے ایسے میں ایک ہی سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ آخر وہ ایک ایس ایچ او کہاں ہے جس کی مار سے بلوچستان کے تمام مسائل حل ہونے تھے حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ کبھی ایک ایس ایچ او ایک افسر یا ایک ادارے کا نہیں تھا یہ برسوں سے بننے والی غلط پالیسیوں زمینی حقائق سے مسلسل انکار عوام سے بڑھتے ہوئے فاصلے اور ایسے مشیروں کا نتیجہ ہے جو حکمرانوں کو ہر وقت یہی یقین دلاتے رہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے میں گزشتہ کئی ماہ سے مختلف زاویوں سے مسلسل لکھ رہا ہوں کہ بلوچستان جل رہا ہے بارہا گزارش کی کہ زمینی حقائق کو تسلیم کیا جائے عوام کی آواز سنی جائے اور حالات کو صرف رپورٹوں اور بریفنگز کی نظر سے نہ دیکھا جائے مگر افسوس ہماری فریاد کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا آج حالات اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں نہ عوام محفوظ ہیں اور نہ وہ محافظ جو عوام کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہے ہیں اب تو ایس ایچ او بیچارے خود مارے جا رہے ہیں افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک طرف ایک وزیر میدان میں کھڑے ہو کر ویڈیو جاری کرتا ہے اور کہتا ہے کون کہتا ہے حالات خراب ہیں دیکھیے میں دشت میں کھڑا ہوں سب کچھ ٹھیک ہے دوسری طرف اسی اسمبلی میں ایک منتخب رکن کھڑے ہو کر یہ اعتراف کرتا ہے کہ ہم اپنے گھروں تک نہیں جا سکتے یہ تضاد صرف بیانات کا نہیں بلکہ زمینی حقیقت اور سرکاری سوچ کے درمیان ایک گہری خلیج کا آئینہ ہے جناب وزیراعلیٰ صاحب اگر واقعی بلوچستان کے حالات معمول کے مطابق ہیں تو پھر پورے صوبے میں احتجاج کیوں ہو رہے ہیں یہ جنازے کس کے ہیں اسپتالوں میں زخمی کہاں سے آ رہے ہیں بازار سنسان کیوں ہیں لوگ شام ڈھلتے ہی سفر کرنے سے کیوں گھبراتے ہیں اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو پھر خوف کس چیز کا ہے حقیقت یہ ہے کہ کچھ بھی ٹھیک نہیں اقتدار کی سب سے بڑی کمزوری مخالفین نہیں ہوتے بلکہ وہ خوشامدی ہوتے ہیں جو ہر حال میں یہی کہتے ہیں کہ سب اچھا ہے یہی حقیقت ایک پرانی کہاوت عوام کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں
ایک بادشاہ ہر ماہ اپنے باربر سے پوچھتا تھا بتاؤ ملک کے حالات کیسے ہیں باربر بلا خوف جواب دیتا بادشاہ سلامت عوام پریشان ہیں مہنگائی بڑھ رہی ہے پانی اور بجلی کا بحران ہے بازاروں میں بے چینی ہے کاروبار نہ ہونے کے برابر ہے اور لوگ حکومت سے ناراض ہیں وزیروں کو یہ سچ پسند نہیں آتا تھا آخر انہوں نے باربر کو بھی سرکاری مراعات پروٹوکول اور آسائشوں کا حصہ بنا دیا چند ہفتوں بعد جب بادشاہ نے دوبارہ وہی سوال کیا تو جواب بدل چکا تھا جہاں پناہ ہر طرف خوشحالی ہے عوام مطمئن ہیں ترقی کا سفر جاری ہے اور سب کچھ بہترین ہے بادشاہ خوش ہو گیا مگر ملک نہیں بدلا تھا بلکہ مذید خرابیاں پیدا ہونے لگی فرق یہ پڑا کہ صرف باربر بدل گیا تھا آج بلوچستان میں بھی اصل مسئلہ یہی ہے اقتدار کے گرد ایسے باربر موجود ہیں جو زمینی حقیقت نہیں بلکہ وہی تصویر دکھاتے ہیں جو حکمران دیکھنا چاہتے ہیں فائلوں میں امن ہے مگر سڑکوں پر خوف
رپورٹوں میں ترقی ہے مگر بازاروں میں سناٹا سرکاری بریفنگز میں کامیابیاں ہیں مگر گھروں میں ماتم حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن پریس کانفرنسوں ویڈیوز اور دعوؤں سے قائم نہیں ہوتا امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب ریاست کا ہر شہری خود کو محفوظ محسوس کرے جب ایک تاجر بلا خوف کاروبار کرے جب ایک طالب علم بلا خوف تعلیم حاصل کرے جب ایک مسافر منزل تک پہنچنے کی امید رکھے اور جب کسی ماں کو اپنے بیٹے کی واپسی کا انتظار خوف میں نہ کرنا پڑے
لیکن اس تمام صورتحال کا ذمہ دار صرف حکومت کو قرار دے کر ہم بھی اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے
قصور ہمارا بھی ہے ہم اس وقت تک خاموش رہے جب تک آگ ہمارے اپنے دروازے تک نہیں پہنچی ہم نے سمجھا کہ اگر آج کسی اور ضلع میں خون بہہ رہا ہے تو شاید کل ہمارا شہر محفوظ رہے گا لیکن آگ کبھی قوم زبان نسل یا ضلع نہیں دیکھتی وہ سب کچھ جلا دیتی ہے آج پشتون کا درد بھی وہی ہے جو بلوچ کا ہے بلوچ کا دکھ بھی وہی ہے جو پشتون کا ہے گزشتوں بیس سالوں میں ہزارہ اور سیٹلرز نے بھی بہت قربانیاں دی آج سب کو سوچنا پڑے گا ہر گھر کی بے چینی ایک جیسی ہے ہر ماں کے آنسو ایک جیسے ہیں اور ہر جنازہ بلوچستان کا مشترکہ نقصان ہے اسی لیے آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پشتون بلوچ، ہزارہ آبادکار سیاسی جماعتیں قبائلی عمائدین مذہبی قیادت تاجر وکلا صحافی اور نوجوان سب ایک پلیٹ فارم پر کھڑے ہوں اس آگ کو کسی ایک قوم یا ایک جماعت کا مسئلہ سمجھنے کی غلطی اب مزید نہیں کی جا سکتی ریاستیں طاقت سے ضرور چلتی ہیں لیکن صرف طاقت سے مضبوط نہیں ہوتیں ریاستیں انصاف اعتماد شفافیت اور عوام کے ساتھ سچ بولنے سے مضبوط ہوتی ہیں حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ پروٹوکول کے حصار سے نکلیں بغیر اطلاع اسپتالوں بازاروں دیہاتوں شاہراہوں اور متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں انہیں کسی بریفنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی کیونکہ زخمیوں کی آہیں شہداء کے جنازے ویران بازار اور خوفزدہ چہرے خود حقیقت بیان کر دیں گے
تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتوں کو دشمنوں نے کم اور خوشامدیوں نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے اگر آج بھی اقتدار کے ایوانوں میں صرف وہی آوازیں سنائی دیتی رہیں جو حکمرانوں کو اچھی لگتی ہیں اگر زمینی حقائق کو تسلیم کرنے کے بجائے انہیں چھپانے کی کوشش جاری رہی اگر غلط پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو باربر بدلتے رہیں گے وزرا بدلتے رہیں گے حکومتیں بدلتی رہیں گی مگر جنازے بھی اٹھتے رہیں گے احتجاج بھی ہوتے رہیں گے اور بلوچستان اسی طرح سلگتا رہے گا
اب بھی وقت ہے حکومت بیانات کے بجائے عملی اقدامات کرے اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے عوام کی آواز سنے اعتماد بحال کرے اور بلوچستان کو صرف نقشے کا حصہ نہیں بلکہ پاکستان کے دل کا حصہ سمجھے کیونکہ جب ایک صوبہ جلتا ہے تو صرف اس کی زمین نہیں جلتی پورے ملک کا مستقبل دھویں میں بدلنے لگتا ہے