بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عالمی پابندیاں؛ آسٹریلیا، ترکیہ اور چین پیش پیش

بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر عالمی پابندیاں؛ آسٹریلیا، ترکیہ اور چین پیش پیش

Jul 13, 2026|ویب ڈیسک

بچوں کی ذہنی و جسمانی صحت کے تحفظ کے لیے پاکستان میں بھی فوری قانون سازی ناگزیر، ماہرین

اسلام آباد/نیویارک — 13 جولائی 2026: کم عمر بچوں کی اخلاقی تربیت، ذہنی اور جسمانی صحت پر سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے منفی اثرات نے دنیا بھر کے ممالک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ عالمی جریدے 'رائٹرز' کے مطابق، دنیا بھر میں آن لائن پلیٹ فارمز کو سخت ضابطے میں لانے والے ممالک کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور متعدد ممالک نے بچوں کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر قوانین نافذ کر دیے ہیں۔


عالمی نشریاتی ادارے 'اسکائی نیوز' اور 'ٹی آر ٹی' کی رپورٹس کے مطابق، دنیا کی بڑی معیشتوں اور ممالک نے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے درج ذیل تاریخی اقدامات اٹھائے ہیں:

مختلف ممالک میں نافذ العمل پابندیاں اور بھاری جرمانے

آسٹریلیا (16 سال سے کم عمر): آسٹریلیا نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ کم عمر صارفین کو بلاک نہ کرنے کی صورت میں سوشل میڈیا کمپنیوں کو 49.5 ملین ڈالر تک کے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔


چین (مائنر موڈ پروگرام): چین کے سائبر اسپیس ریگولیٹر نے "مائنر موڈ" پروگرام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ڈیوائس کی سطح پر سخت پابندیاں اور ایپس کے لیے مخصوص وقت اور قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔


انڈونیشیا (70 ملین بچے متاثر): انڈونیشیا نے تقریباً 70 ملین بچوں کی صحت اور اخلاق پر اثرات کے پیشِ نظر 16 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگا دی ہے۔


برازیل (قانونی سرپرست لازمی): برازیل نے 16 سال سے کم عمر نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو ان کے قانونی سرپرست (والدین) کے اکاؤنٹ سے لنک کرنا قانونی طور پر لازمی قرار دے دیا ہے۔


ترکیہ (15 سال سے کم عمر): معروف ترک نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی کے مطابق، ترکیہ نے 15 سال سے کم عمر افراد کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگاتے ہوئے لاگ ان کے وقت عمر کی مؤثر تصدیق کو لازمی کر دیا ہے۔


پاکستان کے لیے ماہرین کا اہم مشورہ

طبی اور نفسیاتی ماہرین نے عالمی سطح پر اٹھائے جانے والے ان اقدامات کو انتہائی خوش آئند قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جو عناصر بچوں کے مستقبل اور صحت کو داؤ پر لگا رہے ہیں ان کا سدِباب ضروری ہے۔ پاکستان میں بھی معصوم نسل کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے عالمی طرز پر آن لائن سرگرمیوں کی سخت نگرانی اور اس سے متعلق جامع قانون سازی اب ناگزیر ہو چکی ہے