آزاد جموں و کشمیر میں مذاکرات، مفاہمت اور قومی اتحاد کی اپیل

آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے امریکی شہری اپنے آبائی وطن میں جاری چیلنجز پر بدستور گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ورجینیا، میری لینڈ، نیو جرسی اور نیویارک سے تعلق رکھنے والے کشمیری نژاد امریکیوں کے ایک وفد نے حکومتِ پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، محترم پروفیسر احسن اقبال کے ساتھ نوے منٹ طویل ملاقات کی۔

پروفیسر احسن اقبال اس سے قبل بھی 2025 میں وزیراعظم پاکستان کی جانب سے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مذاکرات کے لیے بھیجے گئے وفد کا حصہ رہ چکے ہیں۔

وفد نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو وزیراعظم پاکستان محترم میاں محمد شہباز شریف کے نام ایک یادداشت پیش کی، جس کا عنوان تھا:

”آزاد جموں و کشمیر میں مذاکرات، مفاہمت اور قومی اتحاد کی اپیل“

امریکا میں پاکستان کے سفیر، سفیر رضوان سعید شیخ بھی اس ملاقات میں شریک تھے۔

وفد کے ارکان میں درج ذیل شخصیات شامل تھیں:

ڈاکٹر غلام نبی فائی، سردار ظریف خان، سردار سوار خان، سردار تاج خان، سردار شعیب ارشاد، آفتاب شاہ، امتیاز کیانی، فاروق قریشی، سردار آفتاب روشن خان، سید اسد حسین گیلانی، ظہیر قریشی، خان عبدالوحید اور سردار ساجد سوار۔

یادداشت میں کہا گیا:

”ہم، امریکا میں مقیم کشمیری تارکینِ وطن برادری کے ارکان، آزاد جموں و کشمیر میں حالیہ پیش رفت پر گہری تشویش کے ساتھ یہ تحریر پیش کر رہے ہیں۔ صورتحال کی سنگینی نے ہمیں اس امر پر مجبور کیا کہ ہم وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات، محترم احسن اقبال سے ملاقات کریں اور موجودہ بحران کے پُرامن اور دیرپا حل کے حوالے سے اپنا نقطۂ نظر ان کے سامنے رکھیں۔“

یادداشت میں مزید کہا گیا:

”سب سے پہلے ہم ان تمام خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں جن کے پیارے ان افسوس ناک واقعات میں اپنی جانوں سے محروم ہوئے۔ ہم شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے۔ یہ سب جموں و کشمیر کی سرزمین کے بیٹے اور بیٹیاں تھے، اور ہر انسانی جان کا ضیاع ہم سب کا مشترکہ نقصان ہے۔

ہم زخمی ہونے والے تمام افراد سے بھی دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور متعلقہ حکام سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ ہر زخمی شخص کو اعلیٰ ترین معیار کی طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔“

یادداشت میں حکومتِ پاکستان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا گیا جس کے تحت جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بنیادی مطالبات میں سے ایک کو پورا کرتے ہوئے ضروری اشیائے خورونوش اور خدمات، بالخصوص بجلی اور آٹے پر سبسڈی فراہم کی گئی۔

یادداشت میں آزاد جموں و کشمیر میں صحت کارڈ پروگرام کی بحالی کو بھی سراہا گیا اور کہا گیا کہ یہ ایک اہم اقدام ہے جس سے بے شمار خاندان مستفید ہوں گے۔ ان فیصلوں سے ثابت ہوتا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے بامعنی اور مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

یادداشت میں کہا گیا:

”کشمیری تارکینِ وطن کے وہ ارکان ہونے کی حیثیت سے جن کی جڑیں اپنے آبائی وطن میں گہری ہیں، ہم حکومتِ پاکستان اور تمام متعلقہ ریاستی اداروں سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت اور دیگر فریقین کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا آغاز کریں۔

اس نازک مرحلے پر اعتماد بحال کرنے اور مزید مشکلات سے بچنے کے لیے مذاکرات، صبر و تحمل اور مدبرانہ قیادت ہی سب سے مؤثر راستہ ہیں۔“

یادداشت میں کہا گیا کہ یہ بات قابلِ فہم ہے کہ حالیہ احتجاج میں شامل بہت سے افراد نے حقیقی تحفظات اور شدید جذبات کے تحت ردعمل دیا۔ مشکل حالات میں بعض اوقات جذبات محتاط اور متوازن فیصلوں پر غالب آ جاتے ہیں۔

اسی لیے یہ اور بھی ضروری ہے کہ سرکاری ادارے، سیاسی قیادت اور سماجی نمائندے تحمل کا مظاہرہ کریں، عوام کو پُرسکون رہنے کی ترغیب دیں اور سنجیدہ، مخلصانہ اور تعمیری مذاکرات کے مواقع پیدا کریں۔

یادداشت میں واضح کیا گیا:

”آزاد جموں و کشمیر کے عوام اور پاکستان کی مسلح افواج کے درمیان کوئی بنیادی تنازع موجود نہیں ہے۔ دونوں مشترکہ تاریخ، مشترکہ اقدار اور پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کی سلامتی، وقار اور مستقبل کے لیے دیرپا وابستگی کے رشتے میں منسلک ہیں۔

لہٰذا سامنے آنے والے اختلافات کو تصادم کے بجائے افہام و تفہیم، باہمی احترام اور پُرامن رابطے کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔“

یادداشت میں مزید کہا گیا:

”طویل کشیدگی یا طاقت کا غیر ضروری استعمال مزید انسانی جانوں کے ضیاع اور مصائب کا باعث بن سکتا ہے۔ اس سے وسیع تر کشمیر کاز بھی کمزور ہو سکتا ہے اور کشمیریوں کی ان نسلوں کی قربانیوں کی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے جنہوں نے اپنے جائز حق کے حصول کے لیے جدوجہد کی۔“

یادداشت میں زور دیا گیا:

”بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر کے عوام نے کئی دہائیوں سے بے پناہ مشکلات برداشت کی ہیں اور غیر معمولی قربانیاں دی ہیں۔ مسئلہ کشمیر سے متعلق جدوجہد کے دوران ایک لاکھ سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔

سید علی شاہ گیلانی جیسے رہنما کشمیری عوام کے حقوق کے لیے اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔ محمد یاسین ملک مسلسل طویل قید کا سامنا کر رہے ہیں۔ شبیر احمد شاہ کئی دہائیوں سے حراست میں ہیں۔

مسرت عالم بٹ کو بارہا پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا، جبکہ آسیہ اندرابی اور ان کی ساتھیوں، صوفی فہمیدہ اور ناہیدہ نسرین، کو بھی طویل قید و بند کا سامنا رہا ہے۔

یہ قربانیاں کشمیری عوام کی استقامت، عزم اور مزاحمت کی علامت ہیں۔“

یادداشت میں تسلیم کیا گیا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی فلاح، مسائل اور تحفظات کے لیے مسلسل آواز اٹھاتی رہی ہے۔

اس اہم موقع پر ہم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے مؤدبانہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ ذمہ دارانہ اور پُرامن قیادت فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھے۔

بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر کے کئی نمایاں کشمیری رہنما یا تو اب ہمارے درمیان موجود نہیں یا طویل عرصے سے قید ہیں۔ ایسے میں یہ ایک موقع ہے کہ پُرامن، جمہوری اور اصولی جدوجہد کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کے اندر اور عالمی برادری کے سامنے مؤثر انداز میں اجاگر کیا جائے۔

یادداشت میں کہا گیا:

”ہم اس حقیقت سے بھی مکمل طور پر آگاہ ہیں کہ مسلسل بے امنی دشمن عناصر کو یہ موقع فراہم کر سکتی ہے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے پاکستان کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کریں اور آزاد کشمیر کی صورتحال کا بھارت کے زیرِ قبضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے غیر منصفانہ موازنہ کریں، جنہیں پاکستان مسلسل عالمی سطح پر اجاگر کرتا رہا ہے۔

اس قسم کے بیانیے نہ پاکستان کے قومی مفاد میں ہوں گے اور نہ کشمیری عوام کے مقصد کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گے۔“

وفد کے ارکان نے تمام فریقین، حکومتِ پاکستان، ریاستی اداروں، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت، سیاسی نمائندوں، سول سوسائٹی اور سماجی رہنماؤں سے مؤدبانہ اپیل کی کہ وہ مذاکرات، مفاہمت اور باہمی احترام کے ذریعے متوازن، پُرامن اور سب کے لیے قابلِ قبول حل تلاش کریں۔

ایسا طرزِ عمل قومی اتحاد کو مضبوط کرے گا، عوامی اعتماد کو برقرار رکھے گا اور مسئلہ جموں و کشمیر کے حوالے سے پاکستان کے دیرینہ، اصولی اور مضبوط مؤقف کو مزید تقویت دے گا۔

ہمیں مکمل اعتماد ہے کہ پاکستان کی قیادت اس مشکل صورتحال سے نمٹنے کے لیے دانشمندی، دوراندیشی اور ہمدردی سے کام لیتی رہے گی۔

ہمیں مخلصانہ امید ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں امن بحال کرنے، عوام کی فلاح و بہبود اور وقار کے تحفظ اور اس اتحاد کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی جو ہمیشہ سے ہمارے اجتماعی عزم کی بنیاد رہا ہے۔

ہم پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تاریخ ہمیں ان تقسیموں کی بنیاد پر نہیں پرکھے گی جو ہمیں ورثے میں ملی ہیں، بلکہ اس دانشمندی، ہمدردی اور بصیرت کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی جس کے ذریعے ہم نے ان تقسیموں پر قابو پانے کا انتخاب کیا۔

ہمیں یقین ہے کہ مذاکرات، انصاف اور قومی اتحاد کے ذریعے پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام اس مشکل مرحلے سے پہلے سے زیادہ مضبوط اور متحد ہو کر نکل سکتے ہیں۔

پروفیسر احسن اقبال نے کشمیری تارکینِ وطن کے وفد کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ جموں و کشمیر پر پاکستان میں وسیع قومی اتفاقِ رائے موجود ہے اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ جموں و کشمیر کے پُرامن حل کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ ریاستِ پاکستان کے تمام ادارے اس مقصد کے حصول کے لیے تمام دستیاب سفارتی ذرائع استعمال کرتے رہیں گے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے وفد کو یقین دلایا کہ ان کی جانب سے پیش کی گئی یادداشت، ان کے مشاہدات اور سفارشات کے ساتھ وزیراعظم پاکستان کو ارسال کی جائے گی۔

وفاقی وزیر نے شرکا کو بتایا کہ وہ اس وفد کا حصہ تھے جس نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت سے ملاقات کی تھی۔

بارہ مہاجرین نشستوں کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومتی وفد نے اس مسئلے کو خوش اسلوبی اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دی تھی۔

اس ضمن میں درج ذیل تجاویز پیش کی گئی تھیں:

اول:

چونکہ یہ معاملہ آئینی نوعیت کا ہے، اس لیے اسے آزاد جموں و کشمیر کی منتخب قانون ساز اسمبلی کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

دوم:

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس معاملے پر سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے، اور تمام فریقین کو عدالت کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی پابندی کرنی چاہیے۔

سوم:

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد جموں و کشمیر میں آل پارٹیز کانفرنس منعقد کر سکتی ہے، تاکہ باہمی طور پر قابلِ قبول حل پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکے۔

چہارم:

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی دو سینئر ماہرینِ قانون نامزد کرے، آزاد جموں و کشمیر سے بھی دو سینئر ماہرینِ قانون شامل کیے جائیں، جبکہ حکومتِ پاکستان دو نمائندے نامزد کرے۔ یہ تمام افراد معاملے کا جائزہ لے کر اس کے حل کے لیے سفارشات مرتب کریں۔

وفاقی وزیر نے اس امر کا اعادہ کیا کہ حکومت تمام زیرِ التوا مسائل، بشمول بارہ مہاجرین نشستوں کے معاملے، کو تصادم کے بجائے مذاکرات، مشاورت اور آئینی ذرائع سے حل کرنے کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مذکورہ چاروں تجاویز اب بھی غور و فکر اور تعمیری رابطے کے لیے موجود ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کے لیے امن، انصاف، ہمدردی اور خوشحالی کا باعث بنیں۔

مزید معلومات کے لیے رابطہ کریں:

ڈاکٹر غلام نبی فائی

چیئرمین

ورلڈ فورم فار پیس اینڈ جسٹس

واٹس ایپ: 1-202-607-6435

ای میل: gnfai2003@yahoo.com