بلوچستان میں فتنہ الہندوستان کے شہروں پر کنڑول کے دعوے اور حقیقت
بلوچستان پاکستان کا وہ عظیم صوبہ ہے جس کی سرزمین پر قوم کا مستقبل لکھا جا رہا ہے۔ یہاں کے پہاڑ، صحرا اور سمندر صرف جغرافیہ نہیں بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی کی ضمانت ہیں۔ گوادر کی بندرگاہ، سی پیک،سینڈک اورریکوڈک جیسے قومی اہمیت کے حامل منصوبے اس بات کے گواہ ہیں کہ بلوچستان اب ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ لیکن بلوچستان میں دہلی کی پروردہ بی ایل اے،بی ایل ایف اور دیگر دہشت گرد تنظیمیں اس ترقی کے سفر کو روکنے کے لیے کبھی ان منصوبوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہیں تو جھوٹ پر مبنی بلند وبانگ دعوے کیے جاتے ہیں کہ فلاں شہر پر قبضہ کر لیاگیا، سرکاری دفاتر جلا دیے گئے،پولیس اسٹیشنوں پر کنڑول حاصل کر لیا گیا،اہلکار بھاگ گئے ہیں،اسلحہ ضبط کرلیا گیا اور پورے علاقے میں ان کی رٹ قائم ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا پر چند منٹ کی ویڈیو جاری کی جاتی ہے، دو چار تصاویر لگا دی جاتی ہیں اور بیرون ممالک بیٹھے ان کے بھگوان (ہینڈلز)سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب ہوگئے ہیں۔واضح رہے کہ انہی ڈراموں کے عوض انہیں ڈالر ملتے ہیں۔مگر حقیقت یہ ہے کہ فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں بی ایل اے، بی ایل ایف کسی بھی شہر یاعلاقے پر کنڑول حاصل کرنے کی نہ ہمت رکھتی ہیں نہ طاقت اور نہ ہی انہیں عوامی حمایت حاصل ہے۔ ان کی پوری کارروائی چند منٹ کی لوٹ مار، خوف پھیلانے اور ویڈیو سازی تک محدود ہوتی ہے۔ یہ نام نہاد سرمچاری کے دعویدارنقاب پوش مسلح دہشت گرد موٹر سائیکلوں یا زمیاد گاڑیوں پر عموماََ رات کے اندھیروں میں یاد ن کے وقت موقع پاکر چھوٹے چھوٹے علاقوں یا شہروں میں داخل ہوتے ہیں۔ان کا پہلا ہدف نہتے بلوچ شہری ہوتے ہیں۔انہیں زدکوب کرکے اسلحے کے زور پر رقم چھینی جاتی ہے،خواتین سے زیورات تک چھین لیے جاتے ہیں۔ دکانوں پر دھاوا بول کرراشن تک اٹھا لیا جاتا ہے۔ اس کے بعدکسی بینک کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پھرکسی سرکاری عمارت کی دیوار، مقامی تاجریاسول ٹھیکیدار کی گاڑی یا مشینری پر فائرنگ کرکے اسے آگ لگانے کی کوش کی جاتی ہے تاکہ دھواں اور شعلے ویڈیو میں واضح نظر آئیں۔ اس پورے عمل کے دوران ان کے دو تین ساتھی مسلسل موبائل سے ویڈیو بناتے رہتے ہیں،جوکہ زیادہ سے زیادہ پانچ سے دس منٹ کی ہوتی ہے۔اس کے بعد سیکیورٹی فورسز کے خوف اور ہیبت سے یہ پہاڑوں کی طرف بھاگ کی کوشش کرتے ہیں۔ اس دوران زیاہ تر دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جہنم واصل ہوجاتے، کچھ زخمی حالت میں گرفتارہوجاتے ہیں جبکہ باقی اپنے ساتھیوں کی لاشیں اور اپنی پتلونیں تک چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں۔ اگلے دن ان تنظیموں کے ترجمان ایک طویل پریس ریلیز جاری کرتے ہیں جس میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ فلاں شہر مکمل کنڑول میں ہے اور عوام نے ان کا استقبال کیا ہے۔ اب کوئی بھی باشعور شخص یہ سوال کر سکتا ہے کہ اگر واقعی کنڑول حاصل ہو چکا ہے تو پھر یہ لوگ چند منٹ بعد غائب کیوں ہو جاتے ہیں؟ اگر عوام ان کے ساتھ ہیں تو پھر بھتہ خوری اور لوٹ مار کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟حقیقت یہ ہے کہ یہ کنڑول نہیں بلکہ ایک منظم اشتہاری مہم ہے، جس کا مقصد خوف پھیلانااور دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل کرنا ہے۔چند روز قبل چاغی شہر کے حوالے سے بھی بالکل یہی ڈرامہ رچایا گیا۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیوجاری کرکے دعویٰ کیا گیا کہ چاغی شہر فتنہ الہندوستان، بی ایل اے کے کنڑول میں ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس تھی۔بھارتی اسپانسرڈ دہشت گرد ناکہ بندی کرکے بلوچ عوام سے بھتہ خوری،لوٹ مارکی غرض سے چاغی میں داخل ہوئے،انہوں نے بینک کو جلانے کی کوشش کی، مگر جیسے ہی ایف سی بلوچستان(ساؤتھ) کو اطلاع موصول ہوئی،فوری اور موثر کاروائی کا آغازکردیاگیا۔بڑے بڑے دعوے کرنے والے دہشت گرد چند گھنٹے بھی وہاں نہ ٹھہرسکے اور ہمیشہ کی طرح دم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہوگئے۔کاروائی کے دوران متعدد دہشت جہنم واصل ہوئے۔سوچیے کہ فتنہ الہندوستان کی کالعدم تنظیمیں بی ایل اے، بی ایل ایف اگر واقعی بلوچوں کی خیرخواہ ہوتیں تو پھر وہ بینکوں کو کیوں لوٹتیں، جبکہ ان بینکوں میں بلوچ عوام کا پیسہ رکھا ہوتا ہے؟اگر یہ بلوچوں کی دوست ہیں تو سڑکوں اور پلوں کو کیوں نشانہ بناتی ہیں جو بلوچ عوام کی سہولت کے لیے تعمیر کیے گئے ہیں؟ اگر یہ بلوچ قوم کی ہمدرد ہیں تو پھر وہ نادرا کے دفاتر کو کیوں جلاتے ہیں جہاں عام شہری اپنی شناختی دستاویزات بنواتے ہیں؟ اگر یہ بلوچوں کی رہنماہیں تو پھر وہ اسکولوں کو کیوں جلاتے ہیں جہاں بلوچوں کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں؟اور اگر یہ کسی نظریے کی علمبردار ہیں تو پھر وہ مساجد کو کیوں نشانہ بناتی ہیں جو اللہ کا گھر ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ فتنہ الہندوستان بی ایل اے، بی ایل ایف کا بلوچ قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا تعلق صرف اور صرف پیسے سے ہے اور ان کی ساری آزادی کی جنگ لوٹ مار پر کھڑی ہے۔ آج بلوچ ماں اپنے بیٹے کو اسکول بھیجنا چاہتی ہے،بلوچ باپ اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کمانا چاہتا ہے اوربلوچ نوجوان اپنے صوبے کی ترقی میں حصہ لینا چاہتا ہے۔ مگر فتنہ الہندوستان بی ایل اے، بی ایل ایف جیسی دہشت گرد تنظیمیں انہی خواہشات کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔بلوچستان کے عوام اب ان کے اصل چہروں کو پہچان چکے ہیں۔اس کا ثبوت حال ہی میں بالیچہ میں غیور بلوچوں کی جانب سے بی ای اے کا جھنڈا نذر آتش کرنا ہے،جس کے ذریعے واضح پیغام دیا گیا کہ ہمارے وسائل کو لوٹنے والے ہمارے نمائندے نہیں ہو سکتے،ہمارے بچوں کے اسکول جلانے والے ہمارے خیرخواہ نہیں ہو سکتے اورہماری شاہرات اور بازاروں کو بیگناہ بلوچوں کے خون سے رنگین کرنے والے ہمارے محافظ نہیں ہو سکتے۔ بلوچ قوم مہمان نواز ہے، بہادر ہے اور خوددار ہے۔ اس قوم نے ہمیشہ ریاست پاکستان کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا ہے۔ فتنہ الہندوستان بی ایل اے، بی ایل ایف نے بلوچ نام استعمال کر کے بلوچ قوم کی سب سے بڑی توہین کی ہے جوکہ ناقابل معافی جرم ہے۔اس وقت جنوبی بلوچستان میں ایف سی(ساؤتھ) نے دہشت گردوں کے لیے زمین تنگ کر دی ہے۔ اور واضح کر دیا ہے کہ بلوچستان میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے والے ہر فرد سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔