پاکستان میں دہشت گردی: بھارت اور افغان طالبان گٹھ جوڑ کا پردہ چاک

پاکستان میں دہشت گردی: بھارت اور افغان طالبان گٹھ جوڑ کا پردہ چاک

Aug 18, 2026|ویب ڈیسک

اسلام آباد (نیوز ڈیسک): پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے پیچھے بھارتی خفیہ ادارے ’را‘ اور افغان طالبان رجیم کے درمیان خطرناک گٹھ جوڑ ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ بھارتی یوٹیوبرز کی پاک افغان سرحد اور کالعدم تنظیم ’فتنہ الخوارج‘ تک براہِ راست رسائی نے دونوں کے باہمی گٹھ جوڑ پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔

سیکیورٹی شواہد اور سرحد پر غیر معمولی رسائی

دفاعی و سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق طالبان رجیم کی جانب سے بھارتی شناخت رکھنے والے افراد کو حساس بارڈر ایریاز تک پروٹوکول دینا خطے میں جاری ہائبرڈ وار کا حصہ ہے۔


حساس علاقوں تک رسائی: کابل رجیم نے بھارتی یوٹیوبر کو پاک افغان سرحدی پٹی تک آسان رسائی دی اور فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں سے خصوصی ملاقاتیں کرائیں۔


جدید اسلحے اور ڈرونز کی فراہمی: بھارت کی جانب سے افغان سرزمین پر موجود پراکسیز کو جدید ڈرونز، بھاری ہتھیار اور سیٹلائٹ انٹیلی جنس ڈیٹا فراہم کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔


پروپیگنڈا اور ہائبرڈ وارفیئر: بھارتی ادارے طالبان اور کالعدم عسکریت پسندوں کو پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈا اور سائبر مہمات کی باقاعدہ تربیت فراہم کر رہے ہیں۔


دفاعی حکام اور عسکری ماہرین کا موقف

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے گٹھ جوڑ کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ بھارت اور افغان طالبان رجیم کا مقصد ایک ہے، کیونکہ دونوں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے دہشت گرد نیٹ ورکس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔


خطے کے عدم استحکام کا مشترکہ ایجنڈا

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ سابق بھارتی عسکری افسران اور افغان حکام خود بھی نئی دہلی کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت کا اعتراف کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق دہشت گردوں کی فنانسنگ کرنے والے افغان طالبان اور بھارت دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں، جن کا مشترکہ مقصد ہمسایہ ممالک میں بدامنی اور انتشار پھیلانا ہے