طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل: معاشی بحران اور خواتین پر پابندیاں بدستور برقرار

طالبان حکومت کے پانچ سال مکمل: معاشی بحران اور خواتین پر پابندیاں بدستور برقرار

Aug 17, 2026|ویب ڈیسک

کابل: افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی کو پانچ سال مکمل ہونے پر عالمی میڈیا اور بین الاقوامی اداروں نے ملک کی مجموعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مختلف بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق افغانستان کو تاحال سنگین معاشی بحران، انسانی حقوق کی پامالیوں، خواتین پر سخت قدغنوں اور سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔


طاقت کا مظاہرہ اور انسانی حقوق کی صورتحال

فرانس 24 کی رپورٹ کے مطابق طالبان نے اقتدار کے پانچ سال مکمل ہونے پر سابق امریکی اور نیٹو افواج کے چھوڑے ہوئے فوجی سازوسامان، بکتر بند گاڑیوں اور جدید ہتھیاروں کی نمائش کر کے اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا۔ تاہم، رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ زمینی سطح پر عام شہریوں بالخصوص خواتین اور اقلیتوں کے لیے حالات انتہائی تشویشناک بنے ہوئے ہیں۔

خواتین پر پابندیاں اور نظامِ صحت کا سنگین بحران

ترک میڈیا نیٹ ورک ٹی آر ٹی (TRT) کی خصوصی رپورٹ کے مطابق خواتین کی اعلیٰ تعلیم اور ملازمت پر مسلسل پابندیوں نے افغانستان کے شعبہ صحت کو مفلوج کر دیا ہے:


خواتین ہیلتھ ورکرز کی قلت: طبی شعبے میں خواتین پر قدغنوں کے باعث زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی نگہداشت شدید متاثر ہے۔


غذائی قلت کی شدت: ملک بھر میں لاکھوں بچے بنیادی خوراک اور ادویات کی کمی کے باعث شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔


تعلیم اور عوامی زندگی پر قدغنیں برقرار

جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے (DW) اور اسکائی نیوز کی رپورٹس کے مطابق:


تعلیمی اداروں کی بندش: چھٹی جماعت سے اوپر لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم پر عائد پابندی اب بھی نافذ العمل ہے۔


آزادیِ نقل و حرکت: عوامی مقامات، پارکوں اور بغیر محرم سفر پر لگی بندشوں میں کوئی نرمی نہیں کی گئی۔


H2: سفارتی تنہائی اور خارجہ پالیسی کے چیلنجز

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی (BBC) کا کہنا ہے کہ پانچ سال کا عرصہ گزر جانے کے باوجود طالبان حکومت کے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آسکے۔ اندرونی پالیسیوں، شریعت کی سخت تعبیر اور خواتین کے بنیادی حقوق کے معاملے پر لچک نہ دکھانے کے باعث افغان حکومت کو تاحال عالمی سطح پر باضابطہ سفارتی شناخت حاصل نہیں ہو سکی ہے